بہار اسمبلی انتخابات میں ٹکٹ کے لئے بی جے پی کے دفتر میں ہنگامہ

ہنگامہ کر رہے بی جے پی کارکنان نے بہار کے نائب وزیر اعلی سشیل کمار مودی کو گاڑی سے نہیں اترنے دیا۔

فائل تصویر سوشل میڈیا بشکریہ نیشنل ہیرالڈ 
فائل تصویر سوشل میڈیا بشکریہ نیشنل ہیرالڈ
user

یو این آئی

بہار اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کے اعلان کے بعد سے ٹکٹ کے دعویداروں کی سرگرمیاں اس قدر بڑھ گئی ہیں کہ ان کے حامی کارکنان ہنگامہ آرائی اور ہاتھاپائی کرنے تک آمادہ ہیں اور کل ایسا ہی نظارہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ریاستی دفتر میں دیکھا گیا۔

لکھی سرائے اسمبلی حلقہ کے بی جے پی کارکنان پارٹی کے ریاستی دفتر پہنچے اور اس بار اس سیٹ سے کماری ببیتا کے لئے ٹکٹ کا مطالبہ کرنا شروع کردیا۔ انہوں نے علاقہ کے موجودہ ایم ایل اے وجئے کمار سنہا کے خلاف بھی نعرے بازی کی۔

کارکنان کا کہنا تھا کہ اپنے حلقہ کے موجودہ ایم ایل اے اور وزیر وجئے سنہا وہاں کے ووٹروں کی توقعات پر پورا نہیں اتر رہے ہیں۔ اس لیے اس بار کماری ببیتا کو اس نشست پرٹکٹ دیا جانا چاہئے۔

دریں اثناء، پارٹی دفتر پہنچنے والے سینئر لیڈر اور نائب وزیر اعلی سشیل کمار مودی کی گاڑی کو کماری ببیتا کے حامیوں نے گھیر لیا۔ وہ مسٹر مودی کو کار سے نیچے نہیں اترنے دے رہے تھے۔ اس دوران دفتر میں پہلے سے موجود پارٹی کارکنان اور لکھی سرائے سے تعلق رکھنے والی کماری ببیتا کے حامیوں کے مابین بھی ہاتھا پائی ہوئی۔ بہت کوشش کے بعد ان حامیوں کو راضی کیا گیا اور مسٹر مودی کار سے باہر آسکے۔

next