لیہ میں امنڈی ایران کے تئیں ہمدردی، 25000 روپے میں فروخت ہوا ایک انڈا

10 روپے کے انڈے کو 25000 روپے میں خریدنے والے شخص کا کہنا ہے کہ یہ قیمت انڈے کی نہیں، بلکہ ان بچوں اور مظلوموں کے تئیں ہمدردی ہے جو اس مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>ویڈیو گریب</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

لداخ کے لیہ ضلع سے انسانیت اور اتحاد کی ایک انوکھی مثال سامنے آئی ہے۔ ایران میں بحران کا سامنا کر رہے متاثرین کی مدد کے لیے وہاں کے مقامی لوگوں نے دل کھول کر عطیہ دیا ہے۔ اس دوران ایک نیلامی نے سب کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی ہے۔ دراصل ایران کے متاثرین کی مدد کے لیے چندہ اکٹھا کیا جا رہا ہے۔ اسی مہم کے دوران ایک نیلامی منعقد کی گئی، جس میں ایک معمولی انڈے کی بولی 25000 روپے تک جا پہنچی۔ اسے خریدنے والے شخص کا کہنا ہے کہ یہ قیمت انڈے کی نہیں، بلکہ ان بچوں اور مظلوموں کے تئیں ہمدردی ہے جو اس مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔

اس نیلامی میں انڈا خریدنے والے شبیر حسین نے ’اے این آئی‘ سے بات کرتے ہوئے اپنے اس قدم کی وجہ بتائی۔ شبیر نے کہا کہ ’’ہر کوئی جانتا ہے کہ ایک انڈے کی اصل قیمت صرف 10 روپے ہے۔ میں نے 25000 روپے اس لیے نہیں دیے کیونکہ میرے پاس بہت پیسہ ہے، بلکہ اس لیے دیے تاکہ ایک پیغام جائے۔ ایران میں بچوں پر ظلم ہو رہا ہے، ہم اس کے خلاف ہیں اور ان بچوں کے ساتھ ہیں۔‘‘ شبیر حسین نے جذباتی ہوتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی برادری اور انسانیت کے لیے جان دینے کو بھی تیار ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ اپنے مذہبی اور سماجی رہنماؤں کے احکامات پر عمل کرتے ہیں اور فی الحال متاثرین کی معاشی مدد کرنا ہی ان کا بنیادی مقصد ہے۔


واضح رہے کہ لیہ ضلع کے مختلف حصوں سے لوگ اپنی استطاعت کے مطابق عطیات دے رہے ہیں۔ کوئی نقدی دے رہا ہے تو کوئی اپنی قیمت چیزیں نیلامی کے لیے عطیہ کر رہا ہے۔ انڈے کی یہ نیلامی سوشل میڈیا پلیٹ فارم بھی موضوع بحث بنا ہوا ہے، جسے لوگ ’بے لوث خدمت‘ کی علامت مان رہے ہیں۔