سوشانت سنگھ معاملہ: ’ریپبلک‘ اور ’ٹائمز ناؤ‘ کی کوریج کو عدالت نے بتایا توہین آمیز

بامبے ہائی کورٹ نے ریپبلک ٹی وی اور ٹائمز ناؤ کی کوریج کو بادی النظر میں توہین آمیز قرار دیا ہے تاہم، بنچ نے نیوز چینلز کے خلاف کوئی کارروائی کرنے سے گریز کیا۔

بامبے ہائی کورٹ، تصویر آئی اے این ایس
بامبے ہائی کورٹ، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

ممبئی: اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی موت سے متعلق معاملے میں ممبئی پولیس کی شبیہ کو خراب کرنے والے ریپبلک ٹی وی اور ٹائمز ناؤ کی کوریج آج بامبے ہائی کورٹ نے بادی النظر میں توہین آمیز قرار دیا، تاہم اس ضمن میں کسی بھی کارروائی سے اجتناب کرتے ہوئے عدالت نے واضح کیا کہ مستقبل میں کی جانے والی تحقیقات کی رپورٹنگ کے لئے رہنما اصول جاری کیے جائیں گے۔

بامبے ہائی کورٹ نے بالی ووڈ اداکار، سوشانت سنگھ راجپوت کیس کی موت سے متعلق رپورٹس کے تناظر میں میڈیا ٹرائل کے خلاف دائر عوامی مفادات کی درخواستوں کی سماعت کے بعد 6 نومبر 2020 کو اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ آج اس مقدمہ کا فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس جی ایس کلکرنی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے مشاہدہ کیا کہ میڈیا کو مجرمانہ تفتیش سے متعلق مباحثوں سے گریز کرنا چاہیے اور عوامی مفاد میں ایسے معاملات میں صرف معلوماتی رپورٹس تک ہی محدود رہنا چاہیے۔


عدالت نے ریپبلک ٹی وی اور ٹائمز ناؤ کی کوریج کو بادی النظر میں توہین آمیز قرار دیا ہے تاہم ، بنچ نے نیوز چینلز کے خلاف کوئی کارروائی کرنے سے گریز کیا۔ اور صرف مستقبل میں رپورٹنگ کے لئے رہنما اصول جاری کرنے کی بات کی ہے۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران اس معاملے کی سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے "میڈیا ٹرائل" کے عمل پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس نے میڈیا سے کہا کہ وہ اپنی حدود کو عبور نہ کریں اور اشارہ کیا کہ وہ رہنما اصول اور ہدایت نامہ مرتب کرے گا۔

واضح ریے کہ بنچ نے ریپبلک ٹی وی کی نمائندگی کرنے والے وکیلوں سے کہا تھا کہ "اگر آپ ہی تفتیشی آفیسر، استغاثہ اور جج بن جاتے ہیں تو ہمارا کیا فائدہ؟ ہم یہاں کیوں ہیں؟" اور ’’عوام سے یہ پوچھنا کہ کس کو گرفتار کیا جائے، کیا یہ تحقیقاتی صحافت ہے؟‘‘


بامبے ہائی کورٹ نے سوشانت سنگھ راجپوت میں میڈیا ٹرائل کیس میں ریپبلک ٹی وی کے وکیل ایڈووکیٹ مالویکا تریویدی سے پوچھا تھا کہ "کیا یہ تحقیقاتی صحافت کا حصہ ہے؟ عوام سے ان کے بارے میں رائے پوچھنا کہ کون گرفتار کیا جائے؟ جب کسی معاملے کی تفتیش جاری ہے اور مسئلہ یہ ہے کہ آیا وہ قتل ہے یا خودکشی؟ جس پر ایک چینل کہہ رہا ہے کہ یہ قتل ہے، کیا یہ تحقیقاتی صحافت ہے؟ بنچ نے چینل کے وکیل کو بتایا کہ "پولیس کو سی آر پی سی کے تحت تفتیشی اختیارات دیئے گئے ہیں"۔ میڈیا ٹرائل کیس کی سماعت کے دوران بمبئے ہائی کورٹ نے کہا کہ میڈیا میں اب انتہائی درجہ کی صف بندی ہوگی ہے، ماضی میں صحافی حضرات ذمہ دار اور غیر جانبدار ہوا کرتے تھے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔