گیان واپی مسجد کی سروے رپورٹ وارانسی کی عدالت میں پیش، عدالتوں میں سماعت 20 مئی تک ملتوی

وکیل اجے مشرا نے بدھ کی شام ہی وارانسی ضلع عدالت میں اپنی سروے رپورٹ جمع کرا دی تھی۔ ان کی جانب سے کی گئی ویڈیو گرافی اور فوٹو گرافی پہلے ہی مال خانہ کے لاکر میں جمع ہے۔

وارانسی کی گیان واپی مسجد/ تصویر آئی اے این ایس
وارانسی کی گیان واپی مسجد/ تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

وارانسی: گیان واپی مسجد کی سروے رپورٹ آج ایڈوکیٹ کمشنر وشال سنگھ اور اجے پرتاپ سنگھ نے عدالت میں پیش کر دی۔ وشال سنگھ نے سروے رپورٹ پیش کرنے کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورٹ کمشنر اجے مشرا نے گزشتہ شام ہی اپنی رپورٹ پیش کر دی تھی۔ نیز یہ رپورٹ بغیر کسی تعصب کے تیار کی گئی ہے اور گزشتہ 3 دن سے وہ سوئے نہیں۔ رپورٹ کو روی کمار دیواکر کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

دریں اثنا، سپریم کورٹ نے گیان واپی معاملہ میں سماعت جمعہ 20 مئی تک کے لئے ملتوی کر دی۔ اسی کے ساتھ سپریم کورٹ نے بھی وارانسی کی عدالت کو ہدایت دی ہے کہ گیان واپی معاملہ میں جمعہ تک کوئی سماعت نہ کی جائے۔ دراصل ہندو فریق کے وکیل وشنو جین نے سپریم کورٹ میں معاملہ کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست پیش کی تھی۔


وشنو جین نے عدالت عظمیٰ میں درخواست پیش کرتے ہوئے کہا کہ سینئر ایڈوکیٹ ہری شنکر جین کی طبیعت ناساز ہے لہذا گیان واپی معاملہ میں سماعت کل تک کے لئے ملتوی کر دی جائے۔ سپریم کورٹ نے وشنو جین کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے اس معاملہ میں سماعت کے لئے 20 مئی کی تاریخ مقرر کر دی۔ ساتھ ہی وارانسی کی عدالت کو بھی کل تک سماعت نہ کرنے کی ہدایت دی۔

خیال رہے کہ وکیل اجے مشرا نے بدھ کی شام ہی وارانسی ضلع عدالت میں اپنی سروے رپورٹ جمع کرا دی تھی۔ ان کی جانب سے کی گئی ویڈیو گرافی اور فوٹو گرافی پہلے ہی مال خانہ کے لاکر میں جمع ہے۔ گزشتہ روز عدالت میں ایک درخواست بھی دائر کی گئی تھی، جس میں ہندو فریق نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ اجے مشرا کو اپنی سروے رپورٹ پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔


دراصل، گیان واپی مسجد کے سروے معاملہ میں وارانسی کی عدالت نے ایڈوکیٹ کمشنر اجے مشرا کو برطرف کر دیا تھا۔ مشرا کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھائے جانے کے بعد یہ قدم اٹھایا گیا۔ وہیں، عدالت نے باقی دو کمشنروں کو رپورٹ داخل کرنے کے لیے دو دن کا وقت بھی دیا تھا۔ عدالت نے پایا تھا کہ اجے مشرا نے گیان واپی مسجد کے سروے کے لیے ایک پرائیویٹ ویڈیو گرافر کی خدمات حاصل کی تھیں، وہ اس معاملے سے متعلق میڈیا میں مسلسل بول رہے تھے۔ جس کی وجہ سے مشرا کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اس سے پہلے عدالت نے سروے کرانے کی ذمہ داری اکیلے اجے مشرا کو سونپی تھی۔ سول جج روی دیواکر نے پہلے انہیں ہی کمشنر مقرر کیا تھا۔ اجے مشرا نے 6 اور 7 مئی کو دو دن اکیلے ہی سروے کیا۔ بعد ازاں مسلم فریق کے اعتراض کے بعد عدالت نے اجے مشرا کے ساتھ وشال سنگھ اور اجے پرتاپ سنگھ کو ان کے معاونین مقرر کر دیئے اور 17 مئی کو سروے رپورٹ داخل کرنے کا حکم دیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔