سپریم کورٹ نے آلودگی کے معاملے میں ایئر کوالٹی کمیشن کو پھٹکار لگائی، فوری طور پر ماہرین کی میٹنگ بلائے

عدالت نے کہا ہےکہ کئی برسوں میں کیے جانے والے متعدد اقدامات کے باوجود، قومی راجدھانی کے علاقے میں ہوا کا معیار مسلسل خراب رہا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

یو این آئی

سپریم کورٹ نے دہلی-این سی آر میں فضائی آلودگی کی مسلسل تشویشناک صورتحال سے نمٹنے میں مبینہ بے حسی برتنے پر کمیشن فار ایئر کوالٹی منیجمنٹ (سی اے کیو ایم) کو سخت پھٹکار لگاتے ہوئے کمیشن کو ہدایت دی کہ وہ فوری طور پر ماہرین کی میٹنگ بلائے اور ان کی سفارشات پر تفصیلی رپورٹ تیار کرے، اور اسے عدالت اور عوام کے سامنے پیش کرے۔

چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوائیمالیہ باغچی پر مشتمل بنچ نے منگل کے روز کہا کہ آلودگی کے ذرائع اور ان کی متناسب شراکت کے حوالے سے مختلف ماہرین کے اداروں کی رائے میں یکسانیت نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ آئی آئی ٹی جیسے تکنیکی اداروں سمیت مختلف ماہر اداروں نے اخراج کے شعبوں کے کردار کے بارے میں کافی مختلف اندازے پیش کیے ہیں۔


بنچ نے کہا کہ این سی آر میں بگڑتے ہوئے ہوا کے معیار میں نقل و حمل اور اخراج کے شعبوں کا حصہ مختلف اندازوں میں 12 فیصد سے 41 فیصد تک ہے۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ کئی برسوں میں کیے جانے والے متعدد اقدامات کے باوجود، قومی راجدھانی کے علاقے میں ہوا کا معیار مسلسل خراب رہا ہے۔
عدالت نے کہا کہ وہ طویل عرصے سے وقتاً فوقتاً اس مسئلے کو اٹھانے پر مجبور ہے، اور ماہرین اور رفیق عدالت سے بھی مدد طلب کی ہے، لیکن کوئی دیرپا بہتری دیکھنے میں نہیں آئی۔ 17 دسمبر 2025 کے اپنے سابقہ حکم کا حوالہ دیتے ہوئے، بنچ نے کہا کہ اس وقت، سی اے کیو ایم کو دوبارہ غور کرنے اور طویل مدتی اصلاحی اقدامات کو ریکارڈ پر رکھنے کی ہدایت دی گئی تھی، لیکن کمیشن نے ٹھوس ایکشن پلان کے بجائے صرف اسٹیٹس رپورٹ داخل کی۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ نوٹ اتھارٹی کی سنجیدگی کی عکاسی نہیں کرتا اور عدالت کی جانب سے اٹھائے جانے والے بیشتر مسائل پر خاموش ہے۔ بنچ نے یہ بھی واضح کیا کہ سی اے کیو ایم نے نہ تو بگڑتے ہوئے ہوا کے معیار کے انڈیکس کی صحیح وجوہات کی نشاندہی کرنے میں سنجیدگی دکھائی ہے اور نہ ہی وہ طویل مدتی حل تیار کرنے کے لیے کوشاں دکھائی دیتا ہے، جس سے عدالت کو مجبور ہونا پڑا کہ وہ سی اے کیو ایم کو دونوں عمل کو تیز کرنے کی ہدایت دے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔