سونم وانگچک کی حراست کے خلاف دائر عرضی، سپریم کورٹ میں آج ہوگی سماعت

سپریم کورٹ میں سونم وانگچک کی حراست کے خلاف ان کی اہلیہ کی عرضی پر آج سماعت ہوگی۔ عدالت نے تقاریر کے اصل متن اور ترجمے میں فرق پر سوال اٹھاتے ہوئے حکومت سے اصل پین ڈرائیو پیش کرنے کو کہا تھا

<div class="paragraphs"><p>سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: سپریم کورٹ آج لداخ کے سماجی کارکن سونم وانگچک کی حراست کو چیلنج کرنے والی عرضی پر سماعت کرنے جا رہا ہے۔ یہ عرضی ان کی اہلیہ گیتانجلی آنگمو کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وانگچک کی گرفتاری اور حراست قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں ہے اور انہیں رہا کیا جانا چاہیے۔

عدالت نے اس ہفتے کے آغاز میں مرکزی حکومت سے وانگچک سے منسوب تقاریر کے ترجمہ شدہ متن کی درستگی کے بارے میں سوالات اٹھائے تھے۔ عدالت نے واضح کیا تھا کہ اصل تقریر اور اس کے ترجمے میں کسی بھی قسم کا اختلاف قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ پیر کے روز عدالت نے ہدایت دی تھی کہ ستمبر 2025 میں گرفتاری کے وقت وانگچک کو دی گئی اصل پین ڈرائیو آج عدالت میں پیش کی جائے تاکہ اس کے مندرجات کی جانچ کی جا سکے۔


عرضی میں کہا گیا ہے کہ وانگچک کو گرفتاری کی وجوہات سے مکمل طور پر آگاہ نہیں کیا گیا تھا اور گزشتہ برسوں میں دی گئی ان کی تقاریر کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ان بیانات کو اس طرح پیش کیا گیا جیسے انہوں نے گزشتہ ستمبر میں تشدد کو ہوا دی ہو، جس کے نتیجے میں چار افراد کی موت ہوئی اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔

جسٹس اروند کمار اور جسٹس پی بی ورالے پر مشتمل دو رکنی بنچ نے سابقہ سماعت کے دوران کہا تھا کہ فریقین تشریح میں اختلاف رکھ سکتے ہیں، لیکن تقریر کے اصل الفاظ پر اتفاق ہونا ضروری ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ اسے تقریروں کا حقیقی اور مستند متن درکار ہے۔

سونم وانگچک کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل کپل سبل نے عدالت کو بتایا تھا کہ سرکاری چارٹ میں شامل بعض بیانات کا کوئی وجود نہیں ہے اور حراستی حکم غیر معمولی نوعیت کا ہے۔ معاملے پر آج تفصیلی سماعت متوقع ہے۔