ہریدوار دھرم سنسد: نفرت انگیز تقریر معاملہ پر سپریم کورٹ میں سماعت کل

سابق جج انجنا پرکاش اور سینئر صحافی قربان علی کی جانب سے داخل عرضی پر دلائل پیش کرتے ہوئے وکیل کپل سبل نے عدالت کو بتایا تھا کہ معاملہ میں ایف آئی آر درج تو ہوئی لیکن کوئی گرفتاری نہیں ہوئی۔

سپریم کورٹ، تصویر یو این آئی
سپریم کورٹ، تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

اتراکھنڈ کے ہریدوار میں منعقد ’دھرم سنسد‘ میں اشتعال انگیز تقریر کیے جانے کے معاملے میں آزادانہ جانچ کا مطالبہ کرنے والی عرضی پر سپریم کورٹ میں کل یعنی 12 جنوری کو سماعت ہوگی۔ چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا کی صدارت والی بنچ معاملے کی سماعت کرے گی۔ عرضی پٹنہ ہائی کورٹ کی سابق جج جسٹس انجنا پرکاش اور سینئر صحافی قربان علی نے داخل کی ہے اور معاملے میں آزادانہ جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔

ایک دن قبل پیر کو سپریم کورٹ ہریدوار ’دھرم سنسد‘ میں تشدد پیدا کرنے والی تقریر معاملے کی آزادانہ جانچ کا مطالبہ کرنے والی عرضی پر سماعت کے لیے تیار ہوا تھا۔ اس معاملے کو سینئر وکیل اور کانگریس لیڈر کپل سبل نے سپریم کورٹ میں اٹھایا تھا۔ انھوں نے عدالت میں بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آر درج ہوئی ہے لیکن کوئی گرفتاری نہیں ہوئی۔ سماعت کے بعد چیف جسٹس این وی رمنا نے معاملے پر سماعت کی یقین دہانی کرائی تھی۔


دراصل اتراکھنڈ کے ہریدوار میں ہوئی دھرم سنسد میں اشتعال انگیز تقریر کی ایک ویڈیو سامنے آنے کے بعد سے تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ دراصل اس دھرم سنسد میں ایک مقرر نے متنازعہ تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ دھرم کی رکشا (مذہب کی حفاظت) کے لیے ہندوؤں کو ہتھیار اٹھانے کی ضرورت ہے۔ الزام ہے کہ دھرم سنسد میں اقلیتوں، خصوصاً مسلم طبقہ کے صفایا کی بات کی گئی تھی۔ مقرر نے کہا تھا کہ مسلم آبادی بڑھنے پر روک لگانی ہوگی۔

دھرم سنسد میں نفرت انگیز تقریر کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ملک کے سابق فوجی سربراہان سمیت کئی سابق انتظامی افسران نے کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ ہندوستانی خارجہ سروس کے 32 سابق افسران نے بھی کھلا خط لکھ کر کہا تھا کہ کسی بھی طرح کے تشدد کی اپیل کی مذمت کرتے وقت مذہب، ذات، علاقہ یا نظریاتی اصول کا لحاظ نہیں کیا جانا چاہیے۔ حکومت کے خلاف لگاتار مذمتی مہم چلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایسی مذمت سبھی کے لیے ہونی چاہیے، نہ کہ کچھ چنندہ لوگوں کے لیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔