عدالت عظمیٰ نے ’استھانہ تقرری معاملہ‘ دہلی ہائی کورٹ بھیجا، 2 ہفتہ میں نمٹارے کا حکم

چیف جسٹس این وی رمن، جسٹس ڈی وائی چندرچوڈ اور جسٹس سوریہ کانت کی ڈویژن بنچ نے درخواست گزار این جی او سینٹر فار پبلک انٹرسٹ لیٹی گیشن کو ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی آزادی دی۔

راکیش استھانہ / آئی اے این ایس
راکیش استھانہ / آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے انڈین پولیس سروس کے سینئر افسر راکیش استھانہ کی دہلی پولیس کمشنرکے عہدہ پر تقرری کئے جانے کے فیصلہ کے خلاف عرضی داخل کرنے والی تنظیم کو دہلی ہائی کورٹ جانے کا مشورہ دیا۔ ساتھ ہی ہائی کورٹ کو دو ہفتہ کے اندر معاملہ کو نمٹانے کا بھی حکم دیا۔

چیف جسٹس این وی رمن، جسٹس ڈی وائی چندرچوڈ اور جسٹس سوریہ کانت کی ڈویژن بنچ نے درخواست گزار این جی او سینٹر فار پبلک انٹرسٹ لیٹی گیشن (سی پی آئی ایل) کو ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی آزادی دی۔ درخواست گزار کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے دلیل دی کہ استھانہ کی تقرری ’پرکاش سنگھ‘ کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہے۔


اگرچہ جسٹس رمن سماعت سننے کے لیے تیار نہیں تھے، تاہم عدالت نے بالآخر درخواست گزار سے کہا کہ وہ ہائی کورٹ سے رجوع کرے۔ جسٹس چندر چوڑ نے کہا کہ ہائی کورٹ کو سماعت کرنے دیا جائے، اس سے سپریم کورٹ کو اپنے فیصلہ لینے میں فائدہ ہوگا۔ سپریم کورٹ اب دو ہفتوں کے بعد اس معاملے کی سماعت کرے گی۔

خیال رہے درخواست میں استھانہ کی تقرری کو ضابطوں اور سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ درحقیقت گجرات کیڈر کے 1984 بیچ کے آئی پی ایس افسر راکیش استھانا کو 27 جولائی 2021 کو دہلی پولیس کمشنر کے عہدہ پر تقرری کی گئی تھی۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ استھانہ کو 31 جولائی 2021 کو ریٹائر ہونا تھا، لیکن ریٹائرمنٹ سے چار دن پہلے انہیں دہلی پولیس کا کمشنر بنا دیا گیا جو کہ سراسر غلط ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔