ایس سی-ایس ٹی ریزرویشن سے ’کریمی لیئر‘ خارج کرنے کا مطالبہ، سپریم کورٹ کا مرکز سے جواب طلب

واضح رہے کہ یکم اگست 2024 کوسپریم کورٹ نے درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل ریزرویشن سے متعلق ایک اہم فیصلہ سنا تے ہوئے ایس سی؍ایس ٹی ریزرویشن کو زمروں میں بانٹنے کا اخؒتیار ریاستی حکومت کو دیا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل (ایس سی؍ایس ٹی) کے لیے ریزرویشن کے حوالے سے منگل کو سپریم کورٹ نے بڑا قدم اٹھایا ہے۔ معاملے میں سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے مرکزی حکومت سے رپورٹ طلب کی کہ اس آئینی بنچ کے فیصلے کے بعد کیا کارروائی کی گئی ہے، جس نے ایس سی اور ایس ٹی ریزرویشن کو کوٹہ کے اندر کوٹہ بنانے کی منظوری دی گئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے ایس سی اور ایس ٹی ریزرویشن میں کریمی لیئرلاگو کرنے پر بھی زور دیا تھا۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جویمالیہ باغچی اور جسٹس این وی انجاریا پر مشتمل بنچ نے درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل کے لیے ریزرویشن سے کریمی لیئر کو خارج کرنے کے لیے معیار طے کرنے کی درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا۔ بتادیں کہ او پی شکلا اور سمتا آندولن سمیتی کی جانب سے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرکے ایس سی-ایس ٹی ریزرویشن سے کریمی لیئر کو باہر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے 2024 میں 7 ججوں کے ذریعہ سنائے گئے فیصلے پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا۔


واضح رہے کہ یکم اگست 2024 کو سپریم کورٹ نے درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے ریزرویشن سے متعلق ایک اہم فیصلہ سنایا تھا۔ جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ، بی آر گوائی، وکرم ناتھ، بیلا ایم ترویدی، پنکج متھل، منوج مشرا اور جسٹس ستیش چندر شرما کی بینچ نے ایس سی؍ایس ٹی ریزرویشن کو زمروں میں بانٹنے کا اخؒتیار ریاستی حکومت کو دیا تھا۔

ایس سی اور ایس ٹی افراد کے درمیان مساوی نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے ریاستی حکومتوں کو ایس سی-ایس ٹی ریزرویشن کی درجہ بندی کرنے یعنی کوٹہ کے اندر کوٹہ بنانے کی منظوری دی تھی تاہم سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ تمام زمروں کی بنیاد منصفانہ ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ، آئینی بنچ نے ایس سی-ایس ٹی ریزرویشن میں کریمی لیئر سسٹم کو نافذ کرنے کی بات کہی تھی۔


او پی شکلا اور سمتا آندولن سمیتی نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرکے سپریم کورٹ کے اسی فیصلے کو نافذ کرنے کی مانگ کی تھی۔ سپریم کورٹ کے ریمارکس کو بنیاد بناکر مرکز اور ریاستوں کو رہنما خطوط جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عرضی گزاروں نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ وہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو یونین اور ریاستی خدمات میں ذیلی درجہ بند ایس سی اور ایس ٹی کی نمائندگی کی کمی کے بارے میں ڈیٹا اکٹھا کرنے کی ہدایت کرے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔