درگاہ لاڈلے مشائخ میں پوجا کے خلاف عرضی، سپریم کورٹ فوری سماعت کے لیے تیار

درگاہ انتظامیہ کی جانب سے داخل کی گئی عرضی میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ اس سال کی مہا شیوراتری سے پہلے جمود کو برقرار رکھنے اور کسی بھی ساختی یا مذہبی تبدیلیوں کو روکنے کے لیے مداخلت کرے۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

 سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ کرناٹک کے کلبرگی ضلع میں واقع حضرت لاڈلے مشائخ درگاہ کے احاطے میں مہاشیوراتری کے موقع پر پوجا روکنے کا مطالبہ کرنے والی درخواست پر جلد سماعت پر غور کرے گا۔ درگاہ انتظامیہ کی جانب سے پیش سینئر وکیل وبھا دتہ مکھیجا نے چیف جسٹس سوریہ کانت سے درخواست کی کہ وہ اس معاملے کو 15 فروری سے پہلے درج کریں، کیونکہ اسی دن مہاشیو راتری منائی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کلبرگی میں ایک قدیمی درگاہ ہے۔ اب وہ وہاں شیوارتری کی تقریبات کا اہتمام کرنا چاہتے ہیں۔ کیا اسے 15 فروری سے پہلے سنا جا سکتا ہے؟ سی جے آئی سوریہ کانت نے اس معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے تشویش ظاہر کی کہ لوگ پہلے متعلقہ ہائی کورٹ سے رجوع کیے بغیرسپریم کورٹ میں عرضیاں داخل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہرمعاملہ آرٹیکل 32 کے تحت کیوں آ رہا ہے؟ اس سے یہ پیغام جاتا ہے کہ قانون کو سہولت کے مطابق استعمال کیا جا رہا ہے اور ہائی کورٹ غیرفعال ہے، ہم اس پر بھی غور کریں گے۔


تنازع کے مرکز میں واقع حضرت لاڈلے مشائخ ؒدرگاہ 14ویں صدی کے صوفی بزرگ حضرت شیخ علاؤالدین انصاری جنہیں ’لاڈلے مشائخ‘ بھی کہا جاتا ہے اور 15 ویں صدی کے سنت راگھو چیتنیا سے منسلک ہے۔ تاریخی طور پراس مقام پر مسلمان اور ہندو دونوں برادریوں کے لوگ مذہبی رسومات ادا کرتے رہے ہیں۔ حالانکہ حالیہ برسوں میں مقام کی نوعیت کو لے کر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

نئی عرضی میں درگاہ احاطے میں مہاشیو راتری کی پوجا پر پابندی اورکسی بھی تعمیر یا تبدیلی کو روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے جواس جگہ کی مذہبی نوعیت کو تبدیل کر سکتا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ پوجا کی اجازت دینے والا عبوری حکم اس جگہ کی مذہبی نوعیت کو تبدیل کرنے کی ایک منظم کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔ عرضی گزاروں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ وہ اس سال کی مہا شیوراتری سے پہلے جمود کو برقرار رکھنے اور کسی بھی ساختی یا مذہبی تبدیلیوں کو روکنے کے لیے مداخلت کرے۔


یہ تنازعہ گزشتہ سال مہاشیو راتری کے دوران بھی سامنے آیا تھا۔ فروری 2025 میں کرناٹک ہائی کورٹ نے محدود تعداد میں ہندوعقیدت مندوں کو راگھوا چیتنیا شیولنگا پر کنٹرول شدہ حالات میں پوجا کرنے کی اجازت دی تھی۔ حکم نامے کے تحت ہندو برادری کے 15 افراد کو مقررہ وقت پر اورسخت انتظامی انتظامات کے درمیان پوجا کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اس سے پہلے بھی تصادم سے بچنے کے لیے دونوں فرقوں کے لیے الگ الگ وقت مقررکرکے اسی طرح کی محدود اجازت دی گئی تھی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔