کمال مولا مسجد-بھوج شالہ معاملہ: بسنت پنچمی پر پوجا جاری، نماز جمعہ کی تیاری، سخت سکیورٹی میں عدالتی حکم پر عمل
بسنت پنچمی اور جمعہ ایک ہی دن پڑنے پر کمال مولا مسجد-بھوج شالہ میں سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق پوجا جاری ہے جبکہ نماز جمعہ کی تیاری ہو رہی ہے، سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں

مدھیہ پردیش کے دھار ضلع میں واقع کمال مولا مسجد-بھوج شالہ احاطہ میں آج بسنت پنچمی کے موقع پر طلوعِ آفتاب کے بعد ہندو فریق کی جانب سے پوجا کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جبکہ دوپہر میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں۔ یہ تمام سرگرمیاں سپریم کورٹ کے تازہ حکم کے مطابق سخت سکیورٹی کے درمیان انجام دی جا رہی ہیں۔
بسنت پنچمی اور جمعہ ایک ہی دن پڑنے کے باعث کسی بھی ناخوشگوار صورت حال سے بچنے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے غیر معمولی حفاظتی اقدامات کیے ہیں۔ شہر اور بھوج شالہ کے اطراف تقریباً 8 ہزار پولیس اور نیم فوجی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ مقامی پولیس کے ساتھ سی آر پی ایف اور ریپڈ ایکشن فورس کے جوان بھی موجود ہیں، جبکہ پورے علاقے کی نگرانی ڈرون کے ذریعے کی جا رہی ہے۔
عدالتی حکم کے مطابق ہندو فریق کو طلوعِ آفتاب سے دوپہر ایک بجے تک پوجا کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کے بعد دوپہر ایک بجے سے تین بجے تک احاطہ نماز جمعہ کے لیے مختص رہے گا، جبکہ شام میں دوبارہ پوجا کا سلسلہ شروع ہوگا۔ عام حالات میں بسنت پنچمی پر پوجا اور جمعہ کے دن نماز الگ الگ دنوں میں ہوتی ہیں، تاہم جب دونوں ایک ہی دن پڑتے ہیں تو کشیدگی کے خدشات بڑھ جاتے ہیں، جس کے پیش نظر انتظامیہ نے پہلے سے ہی سخت انتظامات کیے ہیں۔
اس سے قبل 2006، 2013 اور 2016 میں بھی ایسا موقع آیا تھا جب بسنت پنچمی اور جمعہ ایک ہی دن پڑے تھے، اور ان مواقع پر علاقے میں تناؤ کی کیفیت دیکھی گئی تھی۔ انہی تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بار سکیورٹی انتظامات مزید سخت کیے گئے ہیں۔
دھار کے ضلع کلکٹر پریانک مشرا نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر پوری طرح عمل کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق پوجا پُرامن انداز میں جاری ہے اور نماز جمعہ کے لیے بھی عدالت کے حکم کے مطابق انتظامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نمازیوں کی تعداد پاس جاری ہونے کے بعد واضح ہوگی اور اسی کے مطابق انتظامی اقدامات کیے جائیں گے۔
انتظامیہ نے بھوج شالہ کے 300 میٹر کے دائرے کو نو فلائی زون قرار دیا ہے، جہاں ڈرون، یو اے وی، پیرا گلائیڈنگ اور ہاٹ ایئر بیلون جیسی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد ہے۔ احاطے میں داخلہ سخت جانچ کے بعد دیا جا رہا ہے اور ہندو و مسلم فریقوں کے لیے الگ الگ راستے مقرر کیے گئے ہیں۔
ادھر مسلم فریق کی جانب سے شہر قاضی وقار صادق نے واضح کیا ہے کہ اس معاملے میں مسلم سماج نے کوئی درخواست دائر نہیں کی تھی، بلکہ یہ کارروائی ایک انٹرا لوکیوٹری درخواست پر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم سماج سپریم کورٹ کے فیصلے سے مطمئن ہے اور اسے یقین ہے کہ ریاستی حکومت اور ضلعی انتظامیہ عدالتی حکم پر پوری طرح عمل کریں گے۔ ان کے مطابق یہ حکم کوئی نیا نہیں بلکہ 2003 میں طے کیے گئے انتظامات کی ہی توثیق ہے، جس پر تمام فریق عمل کرنے کے پابند ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔