دہلی فساد کے ملزم تسلیم احمد کی درخواست ضمانت پر سپریم کورٹ کا نوٹس جاری، دہلی پولیس سے جواب طلب
تسلیم احمد نے دہلی ہائی کورٹ کے 2 ستمبر 2025 کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے جس میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے ان کی تیسری باقاعدہ ضمانت عرضی خارج کرنے کے حکم کو برقرار رکھا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے سال 2020 میں ہوئے دہلی فسادات کے ’بڑی سازشی معاملے‘ کے ملزم تسلیم احمد کی طرف سے دائر درخواست پر نوٹس جاری کیا ہے۔ انہوں نے انسداد غیر قانونی سرگرمیاں ایکٹ (یواے پی اے) کے تحت ضمانت دینے سے انکار کرنے والے دہلی ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کیا تھا۔ جسٹس اروند کماراور جسٹس پرسنا بی ورالے کی بنچ نے تسلیم احمد کی خصوصی اجازت درخواست (ایس ایل پی) پر دہلی پولیس سے جواب طلب کیا ہے۔
یہ عرضی دہلی ہائی کورٹ کے 2 ستمبر 2025 کے اس فیصلے کو چیلنج کرتی ہے جس میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے ان کی تیسری باقاعدہ ضمانت عرضی خارج کرنے کے حکم کو برقرار رکھا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر دستیاب کیس اسٹیٹس کے مطابق یہ معاملہ 6 اپریل 2026 کو درج ہونے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ تسلیم احمد کو دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے 24 جون 2020 کو گرفتار کیا تھا اور تب سے وہ عدالتی حراست میں ہیں۔ انہیں 23 سے 25 فروری 2020 کے درمیان شمال مشرقی دہلی میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف مظاہروں کے دوران ہوئے تشدد کے سلسلے میں گرفتار کیا تھا۔ تسلیم احمد پر تعزیرات ہند (آئی پی سی)،آرمز ایکٹ، عوامی املاک کو نقصان کی روک تھام ایکٹ اوریو اے پی اے کی دفعات 13، 16، 17 اور 18 کے تحت الزامات عائد کئے گئے ہیں۔
استغاثہ کے مطابق تسلیم احمد جعفرآباد، موج پور، چاند باغ اور گوکل پوری سمیت کئی علاقوں میں فسادات بھڑکانے اور منظم کرنے کی ایک بڑی سازش کا حصہ تھے۔ احمد کا کہنا ہے کہ انہوں نے محض سی اے اے کے خلاف احتجاج کیا تھا اور انہیں دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ ان کے علاوہ اس مبینہ بڑی سازشی معاملے میں عمر خالد، شرجیل امام، میران حیدر، گلفشاں فاطمہ، شفا الرحمان، محمد سلیم خان، شاداب احمد، اطہر خان، اور عبدالخالد سیفی شامل ہیں۔
دہلی ہائی کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا تھا کہ یواے پی اے کی دفعہ 43 ڈی (5) کے تحت محض مرائل میں تاخیر کی بنیاد پر ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ جسٹس سبرامنیم پرساد اور ہریش ویدھ ناتھن شنکر پر مشتمل بنچ نے کہا تھا کہ طویل حراست یا مقدمے میں تاخیر جیسے عوامل کوجرم کی سنگینی یا ملزم کے کردار پرغور کیے بغیر ضمانت دینے کی واحد بنیاد نہیں بنائی جاسکتی۔
تسلیم احمد کی اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہ وہ 5 سال سے زیادہ عرصے سے حراست میں ہیں اور اب تک ٹرائل شروع نہیں ہوا، ہائی کورٹ نے کہا کہ الزامات طے کرنے کی بحث میں تاخیر کے لیے کافی حد تک خود ملزم ہیں ذمہ دارتھے۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ روزانہ سماعت کی ہدایت کے باوجود ملزمین کے وکلاء بحث کے لیے تیار نہیں تھے اور خبردار کیا کہ کسی بھی تاخیر کو عدالت سنجیدگی سے دیکھے گی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔