سپریم کورٹ کا فیصلہ ملعون وسیم رضوی اور دیگر فرقہ پرستوں کے منھ پر طمانچہ: نسیم خان

مہاراشٹر کانگریس کے کارگزار صدر اور سابق وزیر نسیم خان نے مطالبہ کیا ہے کہ وسیم رضوی کے خلاف 153 اے کے تحت مقدمہ درج کر کے اسے فوراً گرفتار کیا جائے۔

نسیم خان، تصویر آئی اے این ایس
نسیم خان، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

ممبئی: قرآن مقدس کی 26 آیات کو دہشت گردی سے جوڑنے اور سپریم کورٹ سے ان آیات کو قرآن پاک سے حذف کرنے کا شرمناک وشرانگیز مطالبہ کرنے والے ملعون وسیم رضوی کو فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے جرم میں دفعہ 153 اے کے تحت فوراً گرفتار کیا جائے۔ یہ مطالبہ آج یہاں ریاستی کانگریس کے کارگزار صدر وسابق وزیر نسیم خان نے کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے ذریعہ ملعون وسیم رضوی کی پیٹشن خارج کیے جانے وہ یہاں میڈیا کے نمائندوں کے سامنے اپنے ردعمل کا اظہار کر رہے تھے۔

نسیم خان نے کہا کہ وسیم رضوی اسلام ومسلمانوں کے خلاف مسلسل ہذیان بکتا رہتا ہے اور ایسے لوگوں کی پرورش فرقہ پرست پارٹیاں اپنے سیاسی مفاد کے حصول کے لیے کرتی ہیں۔ نسیم خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے قابل جج صاحبان نے ملعون وسیم رضوی کی پٹیشن کو خارج کرکے اور اس پر پچاس ہزار روپئے کا جرمانہ عائد کرکے یہ ثابت کر دیا ہے کہ رضوی کا مطالبہ نہ صرف آئین کے خلاف تھا بلکہ اس کا مقصد ملک میں فرقہ وارانہ منافرت کو بڑھانا تھا۔


نسیم خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ دراصل ملعون وسیم رضوی اور اس جیسے دیگر فرقہ پرستوں کے آلہ کاروں کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ جو چاہیں کریں، جس طرح چاہیں شرانگیزی کریں کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ سپریم کورٹ کے اس فصیلے کے بعد مرکز کی مودی اور اترپردیش کی یوگی حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر وسیم رضوی کو ملک کی قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے، فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے جرم میں 153اے کے تحت مقدمہ درج کرکے اسے فوراً گرفتار کرے۔

نسیم خان نے کہا کہ ملعون وسیم رضوی کی خواہش غالباً یہ رہی ہوگی کہ وہ اپنی اس شرانگیز پٹیشن کے ذریعے اترپردیش ومرکز میں بی جے پی حکومت کی آنکھ کا تارا بن جائے گا، مگر سپریم کورٹ نے اس کے منہ پر طمانچہ رسید کرکے اس کو اس کی اوقات یاد دلا دی۔


سپریم کورٹ کے قابل جج جسٹس روہنٹن ایف نریمن، جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس رشیکیش رائے کی بنچ نے اس کی پیٹشن کو اس قابل ہی نہیں سمجھا کہ اس پر سماعت کی جائے۔ ملعون وسیم رضوی کی پٹیشن کو خارج کرکے ملک کی سب سے بڑی عدالت نے ملک کے سامنے ایک ایسی نظیر پیش کی ہے جو ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ضامن ہوسکتا ہے۔ مگر آر ایس ایس و اس کی ذیلی تنظیمیں بار بار اپنے کچھ آلہ کاروں کے ذریعے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں۔ اگر وسیم رضوی کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے گرفتار کرلیا جاتا ہے تو یہ فرقہ پرستوں کے لیے ایک سبق بھی ہوگا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔