’عدالت ہاتھ پر ہاتھ رکھے نہیں بیٹھ سکتی‘، سپریم کورٹ نے نوٹ بندی کے فیصلے سے جڑے سبھی ریکارڈ مانگے

پی چدمبرم نے کہا کہ حکومت کو 2016 کی نوٹ بندی سے جڑے دستاویزات کو عدالت کے سامنے رکھنا چاہیے، اگر حکومت پارلیمنٹ کے ذریعہ کوئی راستہ اختیار کرتی تو اراکین پارلیمنٹ اسے روک دیتے۔

سپریم کورٹ / آئی اے این ایس
سپریم کورٹ / آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

سپریم کورٹ نے بدھ کے روز مرکزی حکومت اور آر بی آئی کو ہدایت دی ہے کہ 2016 کے نوٹ بندی کے فیصلے سے جڑے سبھی ریکارڈ کو دیکھنے کے لیے عدالت میں پیش کیا جائے۔ نوٹ بندی کے قدم کو چیلنج پیش کرنے والی عرضیوں کے ایک پلندہ پر تفصیلی سماعت کے بعد جسٹس ایس اے نظیر کی صدارت والی بنچ نے فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔

بنچ میں شامل جسٹس بی آر گوئی، اے ایس بوپنا، وی راما سبرامنیم اور بی وی ناگرتنا نے کہا کہ انڈین یونین اور آر بی آئی کے وکیل کو اہم ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔ مرکز کی نمائندگی اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمنی نے کی اور آر بی آئی کی نمائندگی سینئر وکیل جئے دیپ گپتا نے کی اور کچھ عرضی دہندگان کی طرف سے سینئر وکیل پی چدمبرم اور شیام دیوان پیش ہوئے۔


عرضیوں پر فیصلہ محفوظ رکھتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے فریقین کو 10 دسمبر تک تحریری دلائل داخل کرنے کی ہدایت دی۔ اٹارنی جنرل نے دلیل دی کہ وہ متعلقہ ریکارڈ سیل بند لفافے میں جمع کریں گے۔ جسٹس ناگرتنا نے کہا کہ عدالت فیصلے کی خوبی-خامی پر غور نہیں کرے گی، لیکن یہ ہمیشہ اسی طریقے پر جا سکتی ہے جس طرح سے اسے لیا گیا تھا، دو چیزیں پوری طرح سے الگ ہیں۔

جسٹس ناگرتنا نے کہا کہ کیونکہ یہ ایک معاشی پالیسی ہے، عدالت ہاتھ پر ہاتھ رکھے نہیں بیٹھ سکتی۔ حکومت جانتی ہے کہ لوگوں کے لیے سب سے اچھا کیا ہے، لیکن اس کا کیا ثبوت ہے کہ وہ فیصلہ لیتے وقت ان باتوں کو توجہ میں رکھتی ہے۔ ایک عرضی دہندہ کی نمائندگی کرتے ہوئے وکیل پی چدمبرم نے کہا کہ حکومت کو 2016 کی نوٹ بندی کے سلسلے میں ان دستاویزوں کو عدالت کے سامنے رکھنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ اگر حکومت پارلیمنٹ کے ذریعہ سے کوئی راستہ اختیار کرتی تو اراکین پارلیمنٹ اس کو روک دیتے، لیکن انھوں نے یہ راستہ اختیار نہیں کیا۔


پی چدمبرم نے کہا کہ آر بی آئی گورنر کو اس بات سے پوری طرح مطلع ہونا چاہیے کہ 1946 اور 1978 میں سنٹرل بینک نے نوٹ بندی کی مخالفت کی اور انھوں نے لیجسلیچر کی مکمل طاقت کا سہارا لیا۔ انھوں نے عدالت سے دستاویزوں کو دیکھنے کی گزارش کرتے ہوئے یہ نوٹس کرنے کی گزارش کی کہ کیا فیصلہ لینا مناسب تھا اور کیا یہ منمانا نہیں تھا۔

مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ نومبر 2016 میں 500 روپے اور 1000 روپے کے کرنسی نوٹوں کے قانونی ٹنڈر کو واپس لینے کا فیصلہ تبدیل ہو رہی معاشی پالیسی اقدام کی سیریز میں اہم اقدام میں سے ایک تھا اور یہ فیصلہ آر بی آئی کے ساتھ وسیع صلاح و مشورہ اور پیشگی تیاریوں کے بعد لیا گیا تھا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔