سپریم کورٹ نے غلام نبی آزاد کو دی جموں و کشمیر جانے کی اجازت، ان اضلاع کا کر سکیں گے دورہ

سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران غلام نبی آزاد کی جانب سے وکیل سنگھوی پیش ہوئے، انہوں نے کہا کہ غلام نبی آزاد 6 بار کے ایم پی ہیں، سابق وزیر اعلی ہیں، پھر بھی انہیں سرینگر ایئرپورٹ سے واپس بھیج دیا گیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

سپریم کورٹ نے کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد کو جموں و کشمیر جانے کی اجازت دے دی ہے، کورٹ نے پیر کو جموں و کشمیر سے منسلک غلام نبی آزاد سمیت 8 درخواستوں پر سماعت کی۔ اس دوران عدالت نے آزاد کو کشمیر جانے کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ وہ 4 اضلاع میں جا سکتے ہیں، ان میں اننت ناگ، بارامولا، سرینگر اور جموں ضلع شامل ہیں۔ کورٹ کے حکم کے مطابق غلام نبی آزاد کشمیر دورے کے دوران کسی سیاسی پروگرام میں حصہ نہیں لے پائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی وہاں جانے کے بعد انہیں سپریم کورٹ کو ایک رپورٹ سونپنی ہوگی۔ عدلت عظمیٰ نے اس سلسلے میں مرکز کی مودی حکومت کو ایک نوٹس بھی جاری کیا ہے۔

سپریم کورٹ میں اس معاملے کی سماعت کے دوران غلام نبی آزاد کی جانب سے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی پیش ہوئے، سنگھوی نے کہا کہ غلام نبی آزاد 6 بار کے ایم پی ہیں، سابق وزیر اعلی ہیں، پھر بھی انہیں سرینگر ایئرپورٹ سے واپس بھیج دیا گیا۔ غلام نبی آزاد نے 8، 20 اور 24 اگست کو جموں و کشمیر جانے کی کوشش کی تھی، لیکن انہیں سرینگر سے ہی واپس بھیج دیا گیا۔

غور طلب ہے کہ غلام نبی آزاد نے جموں و کشمیر سے دفعہ 370 منسوخی کے بعد کئی بار وادی کشمیر جانے کی کوشش کی تھی، لیکن انتظامیہ نے انہیں سرینگر ایئر پورٹ پر ہی روک کر واپس بھیج دیا تھا، اس کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ میں عرضی لگائی۔

جموں و کشمیر سے 5 اگست کو مرکزی حکومت نے آرٹیکل 370 ہٹانے کا فیصلہ لیا تھا، اس کے بعد وادی میں موجود سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ، فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی سمیت تمام رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی کسی بیرونی لیڈر کو وادی میں جانے کی اجازت نہیں ہے، اب بھی وادی کے رہنما نظربند ہیں، دفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد اب بھی وادی سے مکمل طور پر پابندیاں ہٹائی نہیں گئی ہیں۔