سپریم کورٹ نے پھر لگائی سپرٹیک کو پھٹکار، پیر تک فلیٹ خریداروں کی رقم واپس کرنے کا حکم

معاملہ اتر پردیش کے نوئیڈا میں قواعد و ضوابط کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائی گئی دو 40 منزلہ رہائشی عماتوں سے وابستہ ہے، ان عمارتوں کوعدالت عظمیٰ کے حکم پر منہدم کرنے کا عمل جاری ہے۔

سپرٹیک، تصویر آئی اے این ایس
سپرٹیک، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے نوئیڈا کی 40 منزلہ دو رہائشی عمارتوں کے معاملے میں فلیٹ خریداروں کو ان کے واجبات کی ادائیگی نہ کرنے پر پرائیویٹ تعمیراتی کمپنی ’سپرٹیک‘ کو بدھ کے روز سرزنش کی اور اگلی سماعت 17 جنوری تک عدالتی حکم کے مطابق رقم واپس کرنے کا حکم دیا۔

یہ معاملہ اتر پردیش کے نوئیڈا میں قواعد و ضوابط کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائی گئی دو 40 منزلہ رہائشی عماتوں سے وابستہ ہے۔ ان عمارتوں کوعدالت عظمیٰ کے حکم پر منہدم کرنے کا عمل جاری ہے۔ عدالت نے انہیں غیر قانونی قرار دیتے ہوئے گرانے کا حکم دیا تھا۔


جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی والی بنچ نے سپرٹیک کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل کو زبانی حکم دیا کہ متعلقہ کمپنی پیر سے پہلے عدالتی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ادائیگی کرنے کا انتظام کرے۔ بیچ نے توہین عدالت کی عرضی کی سماعت کے دوران سخت تبصرے کے ساتھ اپنے سابقہ ​​حکم پر عملدرآمد کرنے کو کہا۔ یہ عرضی دونوں غیر قانونی عمارتوں کی تعمیر کے دوران فلیٹ کے خریداروں کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔

عدالت عظمیٰ نے گزشتہ سال 31 اگست کو سنائے گئے اپنے فیصلے میں نوئیڈا میں سپر ٹیک کی جانب سے بنائے گئے دو 40 منزلہ عمارتوں ( ٹوئن ٹاور) کو منہدم کرنے کا حکم دیا تھا۔ عرضی گزاروں کا الزام ہے کہ ادائیگی کے معاملے میں سپر ٹیک کی جانب سے سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہیں کیا جا رہا ہے۔ عرضی گزاروں کا الزام ہے کہ کمپنی بار بار ٹال مٹول رویہ اپنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا ’’ کہا جاتا ہے کہ آؤ اور پیسے لے لو، لیکن وہاں جانے کے بعد کمپنی کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ کچھ رقم کٹوتی کے ساتھ قسطوں میں ادا کی جائے گی۔


عرضی میں کہا گیا ہے کہ عدالت کے حکم میں نہ تو فلیٹس کے لیے ادا کی گئی رقم کی واپسی کے لیے رقم کی کٹوتی کرنے اور نہ ہی قسطوں پر ادائیگی کرنے کو کہا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے نوئیڈا اتھارٹی سے اس ایجنسی کے نام دینے کے لئے کہا ہے جسے ’سپرٹیک ایمرالڈ ہاؤسنگ پروجیکٹ کے ٹوئن ٹاوروں‘ کو منہدم کرنے کا کام دیا جائے گا۔ بنچ نے اتھارٹی کو اگلی سماعت پر 17 جنوری کو اپنا جواب داخل کرنے کا حکم دیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔