مینوفیکچرنگ سے متعلق خامیوں کے سبب سن فارما اور سپلا کی دوائیں امریکہ سے واپس

واضح رہے کہ امریکہ دنیا کا سب سے بڑا دوا بازار ہے۔ اس لیے وہاں کام کرنے والی دوا ساز کمپنیوں کے لیے ضابطوں کی تعمیل اور ادویات کے معیار کو برقرار رکھنا انتہائی اہم مانا جاتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (یو ایس ایف ڈی اے) کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ہندوستانی دوا ساز کمپنیوں سن فارماسیوٹیکل انڈسٹریزاورسیپلا نے مینوفیکچرنگ سے متعلق مسائل کی وجہ سے امریکی مارکیٹ سے اپنی کچھ دوائیں واپس منگوا لی ہیں۔ انفورسمنٹ رپورٹ میں امریکی ہیلتھ ریگولیٹر نے بتایا کہ ممبئی میں قائم سن فارما کی امریکہ واقع یونٹ ڈینڈرف(خشکی) اور جلد کی سوجن اور سوزش اور خارش جیسے مسائل کے علاج میں استعمال ہونے والی ایک جینرک دوا کی ہزاروں بوتلیں واپس منگوا رہی ہے۔

نیو جرسی کے پرنسٹن میں واقع سن فارماسیوٹیکل انڈسٹریز انک نے فلواوسنولون ایسیٹونائڈ ٹاپیکل سالیوشن کی 24,624 بوتلیں واپس منگوائی ہیں۔ ٹیسٹ میں پتہ چلا ہے کہ یہ دوا غیرخالص اور معیار کے قائم کردہ پیمانے پر پورا نہیں اتررہی تھی۔ کمپنی نے 30 دسمبر 2025 کو ریاستہائے متحدہ میں کلاس III کی واپسی کا آغاز کیا۔ یو ایس ایف ڈی اے کے مطابق کلاس III کی واپسی ان صورتوں میں کی جاتی ہے جہاں دوا کے استعمال سے صحت کو نقصان ہونے کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔


یو ایس ایف ڈی اے نے یہ بھی بتایا کہ سن فارما نے کلنڈامائسن  فارفیٹ یوایس پی نام کی دوا کے کچھ بیچ بھی واپس منگوا ئے ہیں۔ یہ دوا مُہاسوں کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اس دوا کو 26 نومبر 2025 کو واپس منگوا لیا گیا تھا کیونکہ جانچ میں خالص ہونے کی سطح اور خوراک مقررہ حد سے باہر پائی گئی تھی۔ اسے بھ کلاس III کی واپسی میں رکھا گیا ہے۔ دریں اثنا یو ایس ایف ڈی اے  نے بتایا کہ سپلا کی امریکہ میں قائم یونٹ نے بھی امریکی مارکیٹ سے 15,000 سے زیادہ انجیکشن سرنجیں واپس منگوائی ہیں۔

سپلا یوایس اے انک کا ہیڈ کوارٹر نیوجرسی کے وارن میں ہے۔اس نے لینریٹائڈ انجیکشن کی 15,221 پہلے سے بھری ہوئی سرنج واپس منگوا لی ہیں۔ ان سرنج میں ذرات پائے گئے ہیں۔ سپلا نے یہ واپسی 2 جنوری 2026 کو کلاس II کے تحت شروع کی۔


یوایس ایف ڈی اے کے مطابق کلاس II  واپسی تب کی جاتی ہے جب دوا کے استعمال سے عارضی یا ٹھیک ہوسکنے والے طبی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں حالانکہ سنگین نقصان کا امکان کم ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ دنیا کا سب سے بڑا دوا بازار ہے۔ اس لیے وہاں کام کرنے والی دوا ساز کمپنیوں کے لیے ضابطوں کی تعمیل اور ادویات کے معیار کو برقرار رکھنا انتہائی اہم مانا جاتا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔