توہین رسالت کے مرتکبین پر ’یو اے پی اے‘ جیسے سخت قوانین نافذ ہوں، مہاراشٹر اسمبلی میں ابو عاصم اعظمی کا مطالبہ

سماجوادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی نے مہاراشٹر حکومت مہاراشٹر سے مطالبہ کیا کہ مالیگاؤں کے مسلم نوجوانوں پر غلط طریقے سے درج شدہ معاملات کو واپس لیا جائے۔

ابو عاصم اعظمی، تصویر آئی اے این ایس
ابو عاصم اعظمی، تصویر آئی اے این ایس
user

محی الدین التمش

ممبئی: مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں آج سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی نے 12 نومبر کو مالیگاؤں بند اور تشدد کے واقعات کے ملزمین اور محروسین کے خلاف دفعہ 307 کے غیر واجب استعمال پر گفتگو کرنے کے بعد توہینِ رسالت کے بڑھتے معاملات پر تشویش کا اظہار کیا۔ ابو عاصم اعظمی نے ممبئی میں جاری مہاراشٹر اسمبلی کے سرمائی اجلاس میں توہین رسالت کے مرتکبین پر سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے توہین رسالت کے ساتھ مہاتما گاندھی، بھیم راؤ امبیڈکر اور شیواجی مہاراچ سمیت دیگر عظیم اور عبقری شخصیات کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے خلاف یو اے پی اے اور مکوکا جیسے سخت قانون کا اطلاق کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ابوعاصم اعظمی نے ایوان اسمبلی میں بتایا کہ اکثر و بیشتر فساد اور تشدد کی وجہ اہم اشخاص اور مذہبی لیڈران کی شان میں گستاخیاں ہوتی ہیں۔ مالیگاؤں میں بھی توہین رسالت کے خلاف احتجاج میں تشدد برپا ہوا تھا۔ اس احتجاج کے بعد اب یکطرفہ اور بے جا گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ ابوعاصم اعظمی نے کہا کہ 12 نومبر کو مالیگاؤں سمیت ریاست کے مختلف علاقوں میں توہین رسالت اور تریپورہ تشدد کے خلاف بند کے دوران تشدد پھوٹ پڑا تھا۔ پولیس نے یکطرفہ کاروائی کرتے ہوئے مالیگاؤں میں مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا۔ ان میں بیشتر افراد پر دفعہ 307 کا اطلاق کیا گیا جو کہ سراسر غلط ہے اور اس کے ساتھ ہی ایک ملزم پر شہر کے پانچ الگ الگ پولیس اسٹیشنوں میں معاملہ بھی درج کیا گیا جو سراسر ناانصافی کے مترادف ہے۔


ابو عاصم اعظمی نے حکومت مہاراشٹر سے مطالبہ کیا کہ مالیگاؤں کے مسلم نوجوانوں پر غلط طریقے سے درج شدہ معاملات کو واپس لیا جائے۔ انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ تشدد کے معاملات میں پولیس نے ملزمین پر بڑی بڑی دفعات عائد کردی ہیں جس کی وجہ سے ان کی ضمانت بھی نہیں ہو پا رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔