ایس ایس سی امتحان پاس کرانے کے نام پر وصولی کرنے والے گروہ پر ایس ٹی ایف کا شکنجہ، 7 ملزمین گرفتار

ایس ٹی ایف کے مطابق یہ گینگ آن لائن امتحانات میں پراکسی سرور اور اسکرین شیئرنگ ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے امیدواروں کی جگہ باہر بیٹھے لوگوں سے سوالیہ پرچے حل کرواتا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>گرفتاری کی علامتی تصویر / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

مغربی اترپردیش کے گریٹر نوئیڈا میں اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) نے ایس ایس سی کے ذریعہ منعقدہ آن لائن امتحانات میں دھاندلی کرنے والے بڑے ریکیٹ کا پردہ فاش کرتے ہوئے 7 ملزمین کو گرفتار کیا ہے۔ یہ کارروائی جمعہ کو تھانہ نالج پارک علاقے میں واقع بالا جی ڈیجیٹل زون سینٹر میں کی گئی۔ ایس ٹی ایف کے مطابق یہ گینگ آن لائن امتحانات میں پراکسی سرور اور اسکرین شیئرنگ ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے امیدواروں کی جگہ باہر بیٹھے لوگوں سے سوالیہ پرچے حل کرواتا تھا۔

گرفتار لوگوں میں کلیدی ملزم پردیپ چوہان سمیت ارون کمار، سندیپ بھاٹی، نشانت راگھو، امت رانا، شاکر ملک اور وویک کمار شامل ہیں۔ ایس ٹی ایف نے ان کے قبضے سے 50 لاکھ روپے نقد، 10 موبائل فون، 5 لیپ ٹاپ، ایک راؤٹر، ایڈمٹ کارڈ اور امیدواروں کی فہرست برآمد کی ہے۔


پوچھ گچھ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ گینگ نے ہر امیدوار سے تقریباً 4 لاکھ روپے وصول کرتا تھا۔ اس میں سے کچھ رقم امیدوار لانے والے شخص کو دی جاتی تھی جبکہ باقی رقم گینگ کے ارکان اور سینٹر چلانے والوں میں تقسیم کی جاتی تھی۔ ایس ٹی ایف کے مطابق ملزمین طویل عرصے سے مختلف آن لائن امتحانات میں دھاندلی کرانے کے کام میں سرگرم تھے۔

تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ کلیدی ملزم پردیپ چوہان اور اس کے ساتھیوں نے امتحانی مرکز کے نظام میں پراکسی سرور لگا کر کمپنی کے سرورز کو بائی پاس کیا تھا۔ اس کے ذریعے باہر بیٹھے لوگ اسکرین شیئرنگ ایپلی کیشن کی مدد سے سوالیہ پرچے حل کرتے تھے۔ وہیں اس معاملے میں نالج پارک پولس اسٹیشن میں مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور مزید قانونی کارروائی کی جارہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اب یہ بھی چھان بین کی جارہی ہے کہ کیا اس گینگ میں کچھ اور لوگ ہیں یا نہیں اور انہوں نے کن کن امتحانات میں نقب زنی کی ہے۔ وہیں امیدواروں کے خلاف بھی کارروائی کی جا سکتی ہے جنہوں نے اس غیر قانونی طریقے سے امتحان پاس کرنے کی کوشش کی ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔