مودی حکومت میں ’امرت کال‘ بھرتی امتحان طلبہ کے لیے ’مِرت کال‘ ثابت ہو رہا ہے: ملکارجن کھڑگے
ملکارجن کھڑگے ’ایکس‘ پر لکھتے ہیں کہ ’’مرکزی وزیر تعلیم فوری طور پر استعفیٰ دیں۔ مودی جی ’پریکشا-لیک پر چرچا‘ کیجیے، خاموش رہنے سے کچھ نہیں ہوگا۔‘‘

کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں اور اس کے بعد صدمے کے باعث کئی طلبہ کی خودکشی کے معاملے پر مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اس تعلق سے ایک طویل پوسٹ کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’مودی حکومت میں ’امرت کال‘ بھرتی-امتحان کے طلبہ کے لیے ’مِرت کال‘ ثابت ہو رہا ہے۔ خبروں کے مطابق کئی طلبہ اور طالبات نے نیٹ پیپر لیک ہونے کے صدمے کے باعث خودکشی کر لی ہے۔ لکھیم پور کھیری کے رتک مشرا، دہلی کی 20 سالہ انشکا پانڈے، راجستھان کے جھنجھنو سے پردیپ میگھوال اور گوا میں رہ رہے بنگلورو کے طلبہ سب نے یہ انتہائی قدم اٹھایا ہے۔‘‘
اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں کانگریس لیڈر خودکشی کرنے والے طلبہ کے متعلق لکھتے ہیں کہ ’’کسی نے بچپن سے خواب دیکھا، کسی نے خاندان کی امیدوں کے لیے سب کچھ داؤ پر لگا دیا، سالوں تیاری کی، لیکن مودی حکومت کے بدعنوان اور نکمے نظام نے ان کے خوابوں کو روند دیا۔‘‘ ملکارجن کھڑگے کے مطابق مودی راج میں 90 سے زائد پیپر لیک ہو چکے ہیں۔ 9 کروڑ سے زائد طلبہ اور ان کے خاندان متاثر ہوئے ہیں۔ بے روزگاری کی آگ پہلے ہی نوجوانوں کا مستقبل برباد کر رہی ہے۔ بی جے پی کی سرپرستی میں چلنے والا پیپر لیک مافیا حکومت کے منصفانہ اور شفاف طریقے سے امتحانات کرانے کے دعووں کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔
وزیر اعظم مودی پر طنز کستے ہوئے ملکارجن کھڑگے لکھتے ہیں کہ ’’وزیر اعظم مودی اب تو خود ’فیکٹ چیک‘ کرنے لگے ہیں... کل انہوں نے ’ایز آف لیونگ‘ پر ٹویٹ کیا، لیکن نیٹ پیپر لیک اور طلبہ کی خودکشی پر خاموشی اختیار کیے رہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’2024 نیٹ پیپر لیک میں جن افسران پر سوال اٹھے انہیں سزا نہیں ملی بلکہ ملائی دار عہدے دے دیے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال نوجوانوں کا مستقبل لوٹا جا رہا ہے۔ حالت یہ ہے کہ اب دہلی میڈیکل ایسوسی ایشن نے مرکزی وزیر تعلیم کو بھی خط لکھا ہے۔ اب پانی سر سے اوپر جا چکا ہے۔‘‘ پوسٹ کے آخر میں ملکارجن کھڑگے لکھتے ہیں کہ ’’مرکزی وزیر تعلیم فوری طور پر استعفیٰ دیں۔ مودی جی ’پریکشا-لیک پر چرچا‘ کیجیے، خاموش رہنے سے کچھ نہیں ہوگا۔‘‘
ملکارجن کھڑگے کے علاوہ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے بھی نیٹ امتحان میں ہونے والی بے ضابطگی کے متعلق مودی حکومت پر جم کر حملہ بولا ہے۔ وہ اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں لکھتے ہیں کہ ’’مودی حکومت کا تعلیمی نظام جو تیسرے درجے کی اوسط تعلیمی سوچ رکھنے والے لوگوں سے بھرا ہوا ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں خود کو انتہائی نااہل، سیاسی طور پر جانبدار اور بدعنوان ثابت کر چکا ہے۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’ہر گزرتے مہینے کے ساتھ ایک نیا بحران سامنے آ جاتا ہے جیسے این سی ای آر ٹی نصابی کتابوں کا تنازعہ، وائس چانسلرز کی تقرری پر یو جی سی کے ڈرافٹ ریگولیشن، مسلسل ہو رہے پیپر لیک، این اے اے سی رشوت خوری گھوٹالہ، آئی سی ایچ آر گھوٹالہ، سمگر شِکشا فنڈ کو کھلے عام غیر آئینی طریقے سے روکے رکھنا، کئی اہم مرکزی یونیورسٹیوں میں مستقل وائس چانسلرز کی عدم تقرری اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کے عہدوں پر بڑے پیمانے پر خالی آسامیاں۔‘‘
کانگریس لیڈر جے رام رمیش کے مطابق اب یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ وزارت کی نااہلی کا مقابلہ اگر کوئی کر سکتا ہے، تو وہ وزیر کا تکبر ہے۔ جب میڈیا نے ان سے پوچھا کہ ان کی وزارت نے این ٹی اے پر پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی سفارشات پر توجہ کیوں نہیں دی، تو وزیر نے یہ کہہ کر کمیٹی کی رپورٹ کو سنجیدگی سے لینے سے انکار کر دیا کہ اس میں ’اپوزیشن کے اراکین‘ شامل ہیں۔ اس حوالے سے کانگریس لیڈر کا کہنا ہے کہ ’’سچائی یہ ہے کہ کمیٹی کے 30 اراکین پارلیمنٹ میں سے 17 خود بی جے پی کے ہیں۔ کمیٹی کی سفارشات میں کے رادھا کرشنن ایکسپرٹ کمیٹی کی رپورٹ کی دوبارہ توثیق بھی شامل ہے، جس کا حوالہ خود وزیر دیتے ہیں۔ پارلیمانی قائمہ کمیٹی کو قبول کرنے سے وزیر کا انکار دراصل ان کی اپنی پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ اور ہندوستانی پارلیمنٹ کی کثیر الجماعتی روایات کو مسترد کرنے کے مترادف ہے۔‘‘
جے رام رمیش اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ ’’وزیراعظم اپنے سالانہ ’پریکشا پر چرچا‘ پروگرام کا بڑے فخر کے ساتھ وسیع پیمانے پر تشہیر کرتے ہیں۔ لیکن آج وقت کا تقاضا ہے کہ امتحانات کا جائزہ لیا جائے۔ وزیر تعلیم اس ذمہ داری کے لیے موزوں نظر نہیں آتے۔‘‘
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
