طبی عملہ پر حملہ کرنے والوں کے ساتھ ریاستوں کو سختی سے نمٹنا چاہیے: وزارت داخلہ

اجے بھلا نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں یہ ضروری ہو گیا ہے کہ صحت خدمات سے وابستہ کارکنوں پر حملہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔

اسپتال کی علامتی تصویر / آئی اے این ایس
اسپتال کی علامتی تصویر / آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نئی دہلی: ملک کے مختلف حصوں میں ڈاکٹروں اور دیگر طبی کارکنوں پر حملے کے واقعات کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے مرکزی وزارت داخلہ نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ایسے واقعات سے سختی سے نمٹنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

مرکزی داخلہ سکریٹری اجے بھلا نے ہفتہ کے روز ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف سکریٹریوں کو خط لکھ کر کہا ہے کہ 27 اپریل اور 9 جون کو بھی اس سلسلے میں وزارت داخلہ کی جانب سے ایڈوائزری جاری کی گئی تھی، لیکن ڈاکٹروں اور طبی کارکنوں کے ساتھ مارپیٹ کرنے اور بدسلوکی سے پیش آنے کے واقعات رکنے کا نام نہیں لے رہے ہيں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات سے ڈاکٹروں اور پورے نظام کے طبی کارکنوں کے حوصلے پست ہوتے ہیں، جس کے اثرات پورے نظام صحت پر مرتب ہوتے ہیں۔


داخلہ سکریٹری نے کہا کہ پہلے کی مشاورت میں ان واقعات کو روکنے کے لئے متعدد اقدامات تجویز کیے گئے جن میں صحت کے مراکز اور خصوصاً کووڈ اسپتالوں میں حفاظتی انتظامات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، تمام مراکز میں استقبالیہ مراکز قائم کرنے اور عوام کو ویب سائٹ اور ہیلپ لائن کے ذریعے صحیح معلومات پہنچانے کو کہا گیا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں یہ ضروری ہو گیا ہے کہ صحت خدمات سے وابستہ کارکنوں پر حملہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔ ان معاملات کی سماعت بھی تیزی سے کی جانی چاہیے اور اگر ضرورت پڑے تو وبائی امراض (ترمیمی) ایکٹ 2020 کی بھی مدد لی جانی چاہیے۔


اجے بھلا نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے قابل اعتراض مواد پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ پوسٹروں اور سوشل میڈیا کی مدد سے بھی ڈاکٹروں اور دیگر طبی کارکنوں کی طرف سے دی جانے والی شراکت کا تذکرہ کیا جانا چاہیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔