ماک ڈرِل معاملہ: آگرہ کے پارس اسپتال کو ’کلین چٹ‘ کس کے اشارے پر دی گئی، اجے کمار للو

اتر پردیش کانگریس صدر اجے کمار للو نے ’ماک ڈرل‘ کے سبب مبینہ طور پر 22 اموات کے سلسلہ میں آگرہ کے استپال کو کلین چٹ دٰئے جانے پر یوگی حکومت کو ہدف تنقید بنایا

اجے کمار للو، تصویر یو این آئی
اجے کمار للو، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

لکھنو: اتر پردیش کانگریس صدر اجے کمار للو نے ’ماک ڈرل‘ کے سبب مبینہ طور پر 22 اموات کے سلسلہ میں آگرہ کے استپال کو کلین چٹ دئے جانے پر یوگی حکومت کو ہدف تنقید بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یوگی حکومت کو بتانا چاہئے کہ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے 22 مریضوں کی اموات کے ذمہ دار آگرہ کے پارس اسپتال کو کلین چٹ دینے کی بنیاد کیا ہے؟

اجے کمار للو نے کہا کہ اسپتال کی طرف سے مریضوں کی نازک حالت اور آکسیجن کی کمی کے باوجود کی گئی ماک ڈرل سے ہوئی اموات پر ڈیتھ آڈت کمیٹی کی رپورٹ حکومت کی ناکامیون پر پردہ ڈالنے والی ہے۔ حکومت بتائے کہ اگر آکسیجن دستیاب تھی تو اسپتال میں ماک ڈرل کیوں کیا گیا تھا؟


انہوں نے کہا کہ 5 منٹ کے لئے ماک ڈرل کے بعد 22 افراد کی جان چلی گئی اور اسپتال کے مالک نے خود اس کا اعتراف کیا ہے، اس کے باوجود انسانیت کے قتل کے خطاوار اسپتال کو کلین چٹ کیوں اور کس کی شبیہ بچانے کے لئے دی گئی؟

کانگریس لیڈر نے کہا کہ ریاستی عوام سچائی جاننا چاہتے ہیں۔ ماک ڈرل کے لئے ذمہ دار اسپتال مالک کے خلاف کاروائی کرنے کے بجائے اسے کلین چٹ کس کے اشارے پر دی گئی ہے؟ یہ بتانے کے ساتھ ہی یہ بھی ریاستی حکومت کو بتانا ہوگا کہ اسپتال مالک کا بی جے پی سے کیا رشتہ ہے؟

ریاستی کانگریس صدر نے کہا کہ چار رکنی دیتھ آڈت کمیٹی و دو رکنی جانچ ٹیم کی رپورٹ بی جے پی حکومت کی داغ دار شبیہ پر لیپا پوتی کرنے کی سازش ہے۔ ریاستی حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کا لگاتار گھناونا گناہ کرتی چلی آ رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کورونا کے خوفناک قہر کے دور میں ریاستی حکومت مریضوں کو آکسیجن دستیاب کرانے میں پوری طرح سے ناکام رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔