کورونا سے بچنے کے لیے 'اسپیشل ساڑیاں' لانچ، قوت مدافعت بڑھانے کا دعویٰ

مدھیہ پردیش میں ہربل ساڑیاں اور امیونٹی بوسٹر ساڑیاں بڑے پیمانے پر تیار کی جا رہی ہیں جسے 'آیور وَستر' کا نام دیا گیا ہے۔ ان ساڑیوں کی خاص بات یہ ہے کہ ان کو تیار کرنے کا طریقہ بہت دلچسپ ہے۔

علامتی ساڑی
علامتی ساڑی
user

تنویر

کورونا وائرس انفیکشن سے پوری دنیا میں تباہی کا عالم ہے۔ ہر ملک کا ڈاکٹر اور سائنسداں پریشان ہے کہ آخر اس پر کس طرح قابو پایا جائے۔ روس نے ایک ویکسین لانچ بھی کر دی ہے، لیکن ابھی تک یہ روس کے بازار میں بھی دستیاب نہیں ہے۔ ایسی صورت میں لوگ قوت مدافعت بڑھانے کے لیے طرح طرح کی دوائیاں کھا رہے ہیں اور جڑی بوٹیوں کا بھی استعمال کر رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کورونا سے مقابلہ کرنے کے لیے ہندوستان میں ایک خاص ساڑی لانچ ہوئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس اسپیشل ساڑی سے خواتین میں قوت مدافعت بڑھے گی اور کورونا انفیکشن سے وہ بچ پائیں گی۔

ہندی نیوز پورٹل 'نیوز18' پر اس سلسلے میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ساڑیاں مدھیہ پردیش حکومت نے لانچ کی ہے اور اس کا مقصد کورونا سے مقابلہ کے ساتھ ساتھ جدید دور میں خاتون جنریشن کے درمیان پرانی روایات کو فروغ دینا بھی ہے۔ لیکن جہاں تک ساڑیوں سے قوت مدافعت بڑھنے کی بات ہے، تو لوگوں کو یہ کچھ عجیب ضرور لگ رہا ہے، کیونکہ اب تک اس طرح کی بات سامنے نہیں آئی تھی۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ ساڑیاں خواتین کو وائرس اور بیکٹیریا سے بچانے میں مدد کریں گی۔

بتایا جا رہا ہے کہ مدھیہ پردیش میں ہربل ساڑیاں اور امیونٹی بوسٹر ساڑیاں بڑے پیمانے پر تیار کی جا رہی ہیں جسے 'آیور وَستر' کا نام دیا گیا ہے۔ ان ساڑیوں کی خاص بات یہ ہے کہ ان کو تیار کرنے کا طریقہ بہت دلچسپ ہے۔ اسے بنانے کے لیے کئی طرح کے مسالوں کا استعمال کیا جاتا ہے جن میں لونگ، بڑی الائچی، چھوٹی الائچی، چکرپھول، جاوِتری، دارچینی، کالی مرچ، زیرہ، تیز پتہ وغیرہ شامل ہیں۔ ان مسالوں کو ایک ساتھ لوہے کے بڑے سے برتن میں باریکی سے کوٹا جاتا ہے۔ بعد ازاں 48 گھنٹے سے زیادہ وقت تک ان مسالوں کی پوٹلی بنا کر پانی میں رکھ دی جاتی ہے۔ پھر ایک بھٹی پر اس پانی کی پوٹلی رکھ کر اس کی بھاپ کپڑوں میں لگائی جاتی ہے جس سے ساڑیاں بنتی ہیں۔

مذکورہ عمل کے علاوہ بھی ساڑیاں کئی مراحل اور باریکیوں سے گزاری جاتی ہیں، پھر کہیں جا کر امیونٹی بوسٹر ساڑیاں تیار ہوتی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک ساڑی کو بننے میں تقریباً 5 سے 6 دن کا وقت لگتا ہے۔ یہاں آپ کے لیے یہ بات جاننا بھی ضروری ہے کہ یہ ساڑیاں آپ کے لیے کب تک کارگر ثابت ہوں گی۔ اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ ان ساڑیوں کو پہننے سے ہمیشہ قوت مدافعت بڑھتی رہے گی، تو آپ غلط ہیں۔ دراصل کئی طرح کے مسالوں سے تیار کی گئی ان ساڑیوں میں مسالوں کا اثر 4 سے 5 دھلائی تک ہی رہتا ہے۔ ایسے میں گاہکوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ان کی دھلائی کے لیے کم کیمیکل والا پاؤڈر استعمال کریں تاکہ اثر زیادہ دنوں تک بنا رہے۔ جہاں تک ان ساڑیوں کی قیمت کا سوال ہے، تو بازار میں یہ 3 سے 5 ہزار تک میں دستیاب ہوں گی۔ میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی اطلاعات کے مطابق فی الحال یہ ساڑیاں صرف اندور واقع مرگ نینی اسٹورس پر ہی مل رہی ہیں، لیکن جلد ہی ملک کی دیگر ریاستوں میں بھی دستیاب ہوں گی۔

Published: 20 Aug 2020, 5:38 PM
next