آگرہ: ملزم نے خاتون ڈاکٹر کے قتل کا کیا اعتراف، بتائی پوری داستان

لاپتہ ہوئی ایک خاتون ڈاکٹر کی لاش ملنے کے بعد قتل معاملے میں مشتبہ ملزم نے اپنا جرم قبول کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں پولس نے جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ ملزم وویک تیواری بھی پیشے سے ڈاکٹر ہے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

اتر پردیش کے آگرہ میں لاپتہ ہوئی ایک خاتون ڈاکٹر کی لاش ملنے کے بعد اس قتل معاملہ میں مشتبہ ملزم نے اپنا گناہ قبول کر لیا ہے۔ یہ جانکاری پولس نے میڈیا کو دی اور بتایا کہ وویک تیواری بھی پیشے سے ڈاکٹر ہے۔ اسے اتر پردیش کے جالون سے گرفتار کیا گیا تھا۔

ایک ویڈیو پیغام میں وویک تیواری نے کہا ہے کہ وہ جالون سے یوگیتا گوتم سے ملنے آیا تھا۔ اس نے کہا کہ وہ اور یوگیتا گزشتہ سات سال سے رلیشن شپ میں تھے۔ ملزم نے جرم قبول کرتے ہوئے کہا کہ جب گوتم اس کی کار میں بیٹھی تو ان کے درمیان کافی بحث ہوئی اور تیواری نے غصے میں آ کر اس کا گلا گھونٹ دیا۔ تیواری نے مزید کہا کہ "مجھے احساس ہوا کہ وہ اب بھی زندہ ہوگی، اس لیے میں نے اس کے سر پر چاقو سے حملہ کیا۔ پھر اس نے ایک سنسان جگہ پر لاش کو لے جا کر پھینک دیا اور اسے لکڑیوں سے چھپا دیا۔

قابل ذکر ہے کہ پولس نے بدھ کے روز آگرہ میں ایس این میڈیکل کالج میں کام کرنے والی یوگیتا گوتم کی لاش برآمد کی تھی۔ ڈاکٹر کی فیملی نے اس کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی تھی۔ لاش بمرولی کٹارا کے پاس شاہراہ کے کنارے سے برآمد ہوئی تھی۔

یوگیتا گوتم کے بھائی موہندر کمار گوتم نے ایم ایم گیٹ پولس اسٹیشن میں وویک تیواری کے خلاف اس کی بہن کا اغوا کرنے کے الزام میں شکایت درج کروائی تھی۔ ایس او جی جالون کی ایک ٹیم تیواری کو گرفتار کر آگے کی جانچ کے لیے آگرہ لے کر آئی ہے۔ تیواری متاثرہ سے ایک سال سینئر تھا۔

سینئر پولس افسروں نے بتایا کہ متاثرہ کے سر پر کسی بھاری چیز سے حملہ کیا گیا تھا اور قتل کی جگہ پر متاثرہ کے اسپورٹس جوتے پڑے تھے۔ پولس نے یہ بھی کہا کہ شروعاتی پوچھ تاچھ کے دوران ملزم اپنے بیانوں کو بدلتا رہا، لیکن بعد میں اس نے اپنا جرم قبول کر لیا۔

Published: 20 Aug 2020, 3:50 PM
next