پرائیویٹ کمپنیوں کی آمد سے اسرو ٹیکنالوجی کی ترقی پر زیادہ توجہ مرکوز کر سکے گا: ڈاکٹر شیون

اسرو کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پرائیویٹ کمپنیوں کے پاس بہت سارے مواقع ملتے ہیں۔ ملک کو خود کفیل (آتم نربھر) بنانے کے لئے مواصلاتی سیٹلائٹ کی ایک بڑی تعداد کی ضرورت ہوگی

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی / بنگلور: انڈین اسپیس ریسرچ آرگنازئیشن (اسرو) کے چیئرمین کے شیون نے آج کہا کہ خلائی شعبے کے دروازے پرائیویٹ کمپنیوں کے لئے کھولنے سے اسرو ٹیکنالوجی کی ترقی اور صلاحیت میں توسیع پر زیادہ توجہ مرکوز کر سکے گا۔

ڈاکٹرشیون نے ایک ویبنار میں کہا کہ اس وقت اسرو تحقیق و ریسرچ کے ساتھ ساتھ لانچنگ پیڈ اور مصنوعی سیارے بھی تیارکرتا ہے۔ حکومت نے خلائی سیکٹر کو پرائیویٹ کمپنیوں کیلئے کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ پرائیویٹ کمپنیوں کی سرگرمیوں کی نگرانی اور انہیں اس کی اجازت دینے کے لئے ’انڈین اسپیس پروموشن اینڈ اتھارائزیشن سنٹر (آئی این اسپیس) قائم کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ’’اسرو پیداوار کی بجائے ریسرچ اور ڈیولپمنٹ کی توسیع اورٹیکنالوجی میں توسیع پر زیادہ توجہ مرکوز کرسکے گا۔ ’آتم نربھربھارت‘ کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے ہم خود کفیل ہونے پر فوکس کر رہے ہیں جس کے لئے پرائیویٹ کمپنیوں کی شراکت اہم ہوگی۔ اسرو کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پرائیویٹ کمپنیوں کے پاس بہت سارے مواقع ملتے ہیں۔ ملک کو خود کفیل (آتم نربھر) بنانے کے لئے مواصلاتی سیٹلائٹ کی ایک بڑی تعداد کی ضرورت ہوگی۔

’اسپیس سیکٹرمیں ہندوستان کی صلاحیت کی آزادی‘ کے موضوع پر منعقدہ ایک ویبنار میں اسرو نے کہا کہ جلد ہی ’اسپیس ایکٹیوٹی بل‘ پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا جس کے ذریعے آئی این اسپیس تشکیل پائے گا اور پرائیویٹ سیکٹر کو اس شعبے میں داخلہ ملے گا۔ ایک پریزنٹیشن میں بتایا گیا کہ اس بل کا مسودہ تیار کیا گیا ہے اور بین وزارتی مشاورت کے لئے وزیر اعظم آفس (پی ایم او) کو بھجوا دیا گیا ہے۔ بیرونی خلائی سرگرمیوں سے متعلق بین الاقوامی معاہدے میں ہندوستان رکن ہے۔ لہذا بل کا مسودہ انتہائی باریکی سے تیار کیا گیا ہے۔

next