اناؤ عصمت دری معاملہ: ایمس میں خصوصی عدالت شروع، ملزم سینگر کی ہوئی پیشی

ایمس میں زیر علاج عصمت دری متاثرہ کے علاوہ ملزم رکن اسمبلی کلدیپ سینگر کو بھی ایمس کے جے پرکاش نارائن ٹروما سینٹر میں موجود سیمینار ہال میں قائم کی گئی خصوصی عدالت میں لایا گیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: اناؤ اجتماعی عصمت دری معاملہ کی سماعت کے لئے دہلی میں واقع آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) میں خصوصی عدالت شروع ہو گئی ہے۔ ایمس میں زیر علاج متاثرہ کے علاوہ ملزم رکن اسمبلی کلیدیپ سنینگر کو بھی ایمس کے جے پرکاش نارائن ٹروما سینٹر میں موجود سیمینار ہال میں قائم کی گئی خصوصی عدالت میں لایا گیا ہے۔ ویسٹ دہلی کے ضلع اور سیشن ججس دھرمیش شرما نے یہاں کارروائی شروع کی۔

عدالت کے کام کاج شروع کرنے سے قبل ہی مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی ) نے حفاظت کے چاک و چوبند انتظامات کئے ہیں۔ سی بی آئی کی ٹیم معاملہ سے متعلق تمام دستاویزات سمیت عدالت شروع ہونے سے پہلے ہی تقریباً 9 بجے احاطہ میں پہنچ چکی تھی۔ اس کے بعد عدالت کی جانب سے متاثرہ کے بیان درج کرنے کی کارروائی انجام دی گئی۔ اس خصوصی عدالت کو قائم کئے جانے کے تعلق سے سی بی آئی کو 7 ستمبر کو حکم دے دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے یکم اگست کو اناؤ عصمت دری کی متاثرہ سے متعلق تمام پانچ معاملات کو دہلی منتقل کر دیا تھا اور سماعت کے لئے ایک خصوصی جج کو مقرر کیا گیا تھا جو روزانہ معاملہ کی سماعت کر رہے ہیں۔ عدالت عظمی نے یہ بھی حکم صادر کیا تھا کہ 45 دنوں کے اندر معاملہ کی سماعت مکمل ہو جانی چاہئے۔

بی جے پی سے معطل رکن اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کے معاونین کی طرف سے مل رہی دھمکی کے حوالہ سے متاثرہ کے اہل خانہ کی جانب سے تحریر کئے گئے ایک خط کا عدالت نے از خود نوٹس لیا ہے۔

گزشتہ 28 جولائی کو عصمت دری کی متاثرہ کی کار کو ایک ٹرک نے ٹکر مار دی تھی۔ اس حادثہ میں متاثرہ کے دو رشتہ دار ہلاک ہو گئے جبکہ ان کے وکیل شدید طور پر زخمی ہوئے گئے۔ متاثرہ اور ان کے وکیل دونوں کا ایمس میں علاج و معالجہ جاری ہے۔

Published: 11 Sep 2019, 3:10 PM