اتر پردیش میں پرینکا گاندھی کی سرگرمی سے ایس پی-بی ایس پی میں دہشت

اترپردیش میں شہریت(ترمیمی)قانون کے خلاف ہونے والے احتجاج کے بعد متاثرین کے تئیں کانگریس سرگرمی نے اقلیتی سماج میں کانگریس کے تئیں مثبت پیغام بھیجا ہے۔

پرینکا گاندھی
پرینکا گاندھی
user

یو این آئی

لکھنؤ: اترپردیش میں کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا کے متحرک ہونے اور اقلیتی سماج کو اپنی جانب مائل کرنے کی گوں ناگوں کوششوں نے سماج وادی پارٹی(ایس پی) اوربہوجن سماج پارٹی(بی ایس پی) کی تشویش میں اضافہ کردیا ہے اور دونوں پارٹیاں اپنے روایتی ووٹ بینک کو بچانے کے لئے نئی حکمت عملی پر غور کرنے پر مجبور ہیں۔ گذشتہ 2 دہائیوں کے دوران اقلیتی سماج کے ووٹوں پرسماج وادی پارٹی(ایس پی)اور بہوجن سماج پارٹی دعویداری رہی ہے اور یہ انہیں دونوں پارٹیوں کو ووٹ کرتے آئے ہیں۔اب کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی اس سماج کے اعتماد کو جیتنے کے لئے کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں گنوا رہی ہیں۔

اترپردیش میں شہریت(ترمیمی)قانون کے خلاف ہونے والے احتجاج کے بعد متاثرین کے تئیں کانگریس سرگرمی نے اقلیتی سماج میں کانگریس کے تئیں مثبت پیغام بھیجا ہے۔ایس پی بی ایس پی کے لیڈران نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پرینکا کے اچانک یوپی میں متحرک ہونے سے ان کی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔اور وہ متبادل حکمت عملی پرغور کرنے کو مجبور ہوئے ہیں۔ یادو-مسلم اشتراک والی روایتی سیٹ وسماج وادی پارٹی سربراہ اکھلیش یادو کے پارلیمانی حلقے اعظم گڑھ کا اچانک دورہ کر کے پرینکا نے سماج وادی پارٹی کے کارکنوں سے لے کر اعلی قیادت تک کو سکتے میں ڈال دیا ہے۔اب کانگریس کو کاونٹر کرنے کے لئے سماج وادی پارٹی نے لکھنؤ سے لے کر اعظم گڑھ تک سیاسی آپریشن شروع کرنے پر مجبور ہے اور بیان جاری کرنے کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کا سہارا لے رہی ہے۔

شہریت(ترمیمی)قانون کے خلاف احتجاج کے بعد پرینکا گاندھی کی جانب سے بجنور ،میرٹھ اور دیگر مقامات کا دورہ کر کے متأثرین سے ملاقات کی برقت حکمت عملی نے ایس پی کی توجہ اس جانب مرکوز کرائی اور اکھلیش یادو تشدد متاثرہ علاقوں کا دورہ کر نے اور متأثرین کو 5 لاکھ روپئے کا چیک فراہم کرنے کے لئے وفد کو تشکیل دینے پر مجبور کردیا۔ وہیں بی ایس پی کی جانب سے ابھی تک اس ضمن میں غوروخوض کرنے پر مجبور ہے۔

پرینکا گاندھی کی جانب سے گذشتہ 12 تاریخ کو اعظم گڑھ کے بلریا گنج قصبے کے اچانک دورے نے ایس پی اور بی ایس پی کو اندر سے بے چین کردیا ہے۔بلریا گنج میں مسلم خواتین نے سی اے اے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کررہی تھیں کہ پولیس نے مبینہ طور پر ان پر لاٹھی چارج کرنے کے ساتھ گیس کے گولے داغے تھے جس میں متعدد خواتین زخمی بھی ہوئی تھیں،بعد میں پولیس نے 35 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرتے ہوئے 19 افرد کو گرفتار کیا تھا جس میں قصبے کے کافی اثر رکھنے والے معروف عالم دین مولانا طاہر مدنی بھی شامل ہیں۔

یوپی میں پارٹی کی سوکھی جڑوں کی آبیاری میں دن رات ایک کرنے والی پرینکا کی نگاہیں مسلم ووٹوں پر مرکوز ہیں۔ اپنے دورے کے دوران پرینکا نے مسلم خواتین سے کھل کر بات کی اور ان کے چھوٹے چھوٹے بچوں کو اپنی گود میں اٹھا لیا۔وہیں پرینکا کو سننے اور اپنی آب بیتی سنانے کے لئے بڑی تعداد میں مسلم خواتین اکٹھا ہوئی تھیں۔ملاقات کے بعد پرینکا نے ہرممکن مدد کی یاددہانی کے ساتھ ہی پولیس کی مبینہ بربریت کو حقوق انسانی کمیشن کے سامنے اٹھانے کی یقین دہانی دلائی تھی۔

وارانسی کے راستے اعظم گڑھ کے بلریا گنج پہنچنے والی پرینکا متعدد چھوٹے چھوٹے شہروں سے گذریں اور جگہ جگہ پر لوگوں کے شاندار استقبال نے کانگریس لیڈروں کے خوش ہونے کا کافی سامان مہیا کردیا۔اعظم گڑھ ایس پی سربراہ اکھلیش یادو کا پارلیمانی حلقہ ہے اور وہاں پر اکھلیش کے دورے سے قبل پرینکا کی آمد نے مسلم خاص کر عورتوں کے درمیان اچھا پیغام چھوڑا ہے۔متعدد خواتین اس بات کی شاکی ہیں کہ پولیس کی مبینہ مار پیٹ کے بعد بھی اکھلیش نے اپنے پارلیمانی حلقے کو نظر انداز کیا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اترپردیش میں اپنی کھوئی ہوئی زمین کو واپس حاصل کرنے کے لئے کانگریس ’مسلم۔برہمن‘کا انتخابی تال میل قائم کرنے کی کوشش میں ہے۔اور کانگریس کی متحرک سیاست ابھی تک صحیح رخ کی جانب گامزن ہے۔یو پی کانگریس کے سینئر لیڈر کے مطابق اگر ہم ان دونوں سماجوں کا اشتراک قائم کرنے میں کامیاب ہوئے تو ہمیں خاطر خواہ فائدہ حاصل ہوگا۔

next