لاک ڈاؤن ضروری، لیکن بغیر تیاری نفاذ سے ملک ہوا پریشان: سونیا گاندھی

کانگریس صدر سونیا گاندھی نے کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ کی۔ اس دوران انھوں نے کہا کہ مودی حکومت نے لاک ڈاؤن کا فیصلہ جلد بازی میں لیا جس کا خمیازہ ملک بھگت رہا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ملک بھر میں کورونا وائرس کی دہشت کے درمیان کانگریس صدر سونیا گاندھی نے جمعرات کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ کانگریس ورکنگ کمیٹی میٹنگ کی صدارت کی۔ میٹنگ میں سونیا گاندھی نے کہا کہ ہمارے سامنے کورونا کی شکل میں صحت سے متعلق سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے۔ اس پر فتح حاصل کرنے کے لیے ہمارے عزائم زیادہ ہونے چاہئیں۔ سونیا گاندھی نے مزید کہا کہ "کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے لگاتار تجربے کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ ہمارے ڈاکٹرس، نرس اور میڈیکل اہلکار کو سبھی کی حمایت کی ضرورت ہے۔ پی پی ای یعنی پرسنل پروٹیکشن ایکوئپمنٹ جیسے کہ ہزمت سوٹ، این-95 ماسک انھیں جنگی سطح پر مہیا کرائے جانے چاہئیں۔"

میٹنگ میں سونیا گاندھی نے مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ انھوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کا فیصلہ جلد بازی میں لے لیا گیا جس کا خمیازہ پورے ملک کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے درپیش حالات سے نمٹنے کے لیے حکومت کو ایک وسیع پالیسی تیار کرنی چاہیے تھی۔ سونیا گاندھی نے مزید کہا کہ کورونا سے نمٹنے کے لیے لاک ڈاؤن ضروری ہو سکتا ہے لیکن غیر منصوبہ بندی کی وجہ سے لاکھوں مہاجر مزدوروں کو پریشانی اور تکلیف اٹھانی پڑ رہی ہے۔

سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ سے خطاب کیا۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی کووڈ-19 چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے ملک کے ساتھ متحد ہو کر کھڑی ہے، اور اس مشکل وقت میں ضروری ہے کہ سب ایک ساتھ کھڑے ہو کر احتیاطی تدابیر کریں۔

کانگریس رکن پارلیمنٹ اور سابق پارٹی صدر راہل گاندھی نے اس موقع پر کہا کہ سبھی ریاستی حکومتوں کو کووڈ-19 سے متاثر ہونے کے اندیشہ والے حساس طبقات کے لیے خصوصی گائیڈ لائن جاری کیے جانے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ دنیا کے کسی بھی ملک نے مہاجروں کو جبراً ان کے کھانے اور راشن کا انتظام کیے بغیر گھر سے باہر نہیں بھیجا ہے۔ یہ سب انتظام کرنے کے بعد ہی لاک ڈاؤن کیا گیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ "کورونا وائرس ضعیف اور پھیپھڑوں کی بیماری والے لوگوں، ذیابیطس اور امراض قلب والے اشخاص پر زیادہ گہرا اثر کرتا ہے۔ سبھی ریاستی حکومت کو ان کے لیے اسپیشل ایڈوائزری جاری کرنے اور دھیان رکھنے کی ضرورت ہے۔"

کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں شامل کانگریس حکمراں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے بھی اپنی اپنی بات رکھی۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے اپنی ریاست میں کھانا، دوا کے انتظام کے ساتھ دیگر تیاریوں کی جانکاری دی۔ چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل نے کہا کہ ان کی حکومت نے پی ڈی ایس سسٹم کے تحت سبھی خاندانوں کو 10 کلو گرام راشن مفت دیا ہے۔ آنگن باڑیوں میں سبھی بچوں کو ان کے گھر کھانا بھیجا جا رہا ہے، حالانکہ حکومت ہند نے 2000 کروڑ روپے ریاست کو جی ایس ٹی حصہ نہیں دیا ہے۔

میٹنگ میں پی چدمبرم نے کہا کہ مرکزی حکومت نے بحران کی کیفیت کو پوری طرح سے نہیں سمجھا ہے۔ کانگریس کو اس ایشو پر لگاتار حکومت کو حمایت دینی چاہیے، ساتھ ہی خامیوں کی طرف بھی نشاندہی کرنی چاہیے۔ احمد پٹیل نے اس موقع پر کہا کہ کانگریس نے ہر قدم پر حکومت کی حمایت کی ہے۔ یہ بھی سچائی ہے کہ میڈیا کانگریس کے مشوروں کو دکھانے سے پرہیز کرتا ہے، لیکن ہم اپنی ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔

واضح رہے کہ کورونا بحران کو لے کر کانگریس صدر سونیا گاندھی گزشتہ کچھ دنوں کے اندر پی ایم مودی کو تین بار خط لکھ چکی ہیں جن میں انھوں نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے کئی مشورے دیئے اور دیہی ہندوستان کے غریبوں اور منریگا مزدوروں کو امدادی رقم دینے سمیت کئی مطالبات بھی کیے۔

next