’میڈیا میں کچھ گھٹیا عناصر گھس آئے ہیں‘

جموں و کشمیر پولس سربراہ دلباغ سنگھ نے ایک بات چیت کے دوران کہا کہ ہماری یہی کوشش رہتی ہے کہ لوگوں کے ساتھ عزت سے پیش آئیں لیکن عزت ایک طرف سے نہیں بلکہ دونوں طرف سے ہونی چاہیے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

سری نگر: جموں و کشمیر پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے کہا ہے کہ میڈیا میں کچھ بقول ان کے 'گھٹیا عناصر' گھس آئے ہیں جو معاملات کا استحصال کرکے دراڑ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے دنوں ہمیں تین چار ایف آئی آر میڈیا کے لوگوں کے خلاف درج کرنی پڑیں جو ایسے ماحول کے تاک میں رہتے ہیں کہ جس کا وہ استعمال و استحصال کرکے لوگوں اور محکموں کے بیچ میں دراڑ پیدا کریں۔

پولیس سربراہ کے میڈیا کے لوگوں کے خلاف ایف آئی درج کیے جانے سے بظاہر مراد وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے تین صحافی گوہر گیلانی، پیزادہ عاشق اور مسرت زہرا ہیں جن کے خلاف حال ہی میں ایف آئی درج کی گئی تھیں ۔ دلباغ سنگھ نے ایک نجی نیوز چینل کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ 'غلطی کسی عام شہری کی ہو یا کسی محکمے کے ملازم کی، جب پولیس کے ساتھ تکرار یا ٹکراؤ ہوتا ہے تو پولیس پر ذمہ داری چڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے، جو بہت غلط بات ہے اور جس کو جائز قرار نہیں دیا جاسکتا'۔

موصوف نے کہا کہ 'میڈیا میں بھی کچھ گھٹیا عناصر کے لوگ گھس آئے ہیں جو ایشوز کا استحصال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پچھلے دنوں ہمیں تین چار ایف آئی آر میڈیا کے لوگوں کے خلاف درج کرنی پڑیں، جو تاک میں رہتے ہیں کہ کہیں نہ کہیں انہیں ایسا ماحول ملے جس کا وہ استحصال کرکے لوگوں اور محکموں کے درمیان دراڈ پیدا کرسکیں۔ ہم اس طرح کی بات برداشت نہیں کریں گے'۔

دلباغ سنگھ نے کہا کہ پولیس تمام لوگوں کے ساتھ عزت سے پیش آنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'ہماری یہی کوشش رہتی ہے کہ لوگوں کے ساتھ عزت سے پیش آئیں لیکن عزت ایک طرف سے نہیں بلکہ دونوں طرف سے ہونی چاہیے۔ پولیس جی حضوری کرے گا اور دوسرا دادا گری کرے گا اس طرح کی حرکتیں برداشت نہیں کی جائیں گی'۔

موصوف پولیس سربراہ نے کہا کہ پولیس اور سیکورٹی فورسز کا کام اتنا مشکل ہے کہ اس میں کبھی نہ کبھی تکرار کی نوبت آ ہی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 'پولیس اور سیکورٹی فورسز کا کام اتنا مشکل ہے کہ کبھی نہ کبھی تکرار ہو جاتی ہے۔ اس دوران کبھی پیار سے کام کیا جاتا ہے کبھی سختی بھی کرنا پڑتی ہے، کبھی پھول تو کبھی ڈنڈے بھی برسائے جاتے ہیں'۔

کورونا کے بیچ پولیس کو در پیش مشکلات و مسائل کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں دلباغ سنگھ نے کہا کہ 'کورونا کے چلتے پولیس کو اپنی ڈیوٹی انجام دینے میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ہم سیول اور اسپتال انتظامیوں کو بھرپور تعاون فراہم کر رہے ہیں جس دوران ہمارے بھی جوان متاثر ہو رہے ہیں اور پچھلے ایک ہفتے سے ہمارے جوان زیادہ تعداد میں کورونا سے متاثر ہو رہے ہیں'۔ انہوں نے کہا کہ متاثر اہلکاروں کے علاج کے لئے تمام تر انتظامات کیے جاتے ہیں ان کے لئے اندر ہی قرنطینہ سینٹر اور علیحدہ وارڈ قائم کیے جاتے ہیں اور ہمارے سارے ویلفیئر سینٹرس بھی اس کام پر لگے ہوئے ہیں۔

موصوف پولیس سربراہ نے کہا کہ ہمارا سیکورٹی گرڈ تمام طرح کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے تیار ہے اور ہمارا سب سے بڑا مقصد عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے سات دنوں کے دوران سات کامیاب آپریشنز کیے گئے جن میں کئی ملی ٹنٹوں کو مارا گیا اور ان کی کمیں گاہوں کو بھی تباہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کا نظام مستحکم ہے اور ہم دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے ساتھ شانہ بہ شانہ چل کر کام کر رہے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 04 Jun 2020, 4:29 PM