ہندو-مسلم طبقہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے لیے سوشل میڈیا ذمہ دار!

بڑی تعداد میں ہندوستانی یہ مانتے ہیں کہ ملک میں ہندو اور مسلم طبقات کے درمیان بڑھتی دوریوں کے لیے سوشل میڈیا ذمہ دار ہے، لوگوں کی شدت پسندی میں بھی اضافہ درج کی گیا ہے۔

علامتی تصویر، آئی اے این ایس
علامتی تصویر، آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

گزشتہ کچھ سالوں میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان دوریاں کافی بڑھی ہیں۔ بڑی تعداد میں ہندوستانی مانتے ہیں کہ ملک میں ہندو اور مسلم طبقہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے لیے سوشل میڈیا ذمہ دار ہے۔ 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد انہدام کی 30ویں برسی کی شروعات سے ایک دن قبل، یعنی 5 دسمبر کو 1942 لوگوں پر کیے گئے ایک سروے میں یہ جانکاریاں ملیں۔ سروے میں شامل نصف جواب دہندگان (48.2 فیصد) نے محسوس کیا کہ سوشل میڈیا نے طبقات کے درمیان دوریوں کو کافی حد تک بڑھا دیا ہے۔

اس سروے میں 23 فیصد جواب دہندگان نے محسوس کیا کہ سوشل میڈیا نے کچھ حد تک دوریوں کو بڑھایا ہے۔ دراصل 71 فیصد سے زیادہ ہندوستانی سوشل میڈیا کو دونوں طبقات کے درمیان حالیہ دوریوں کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ اس کے برعکس 28.6 فیصد کی رائے تھی کہ اس معاملے میں سوشل میڈیا کو کوئی کردار نہیں ہے۔ اگر آپ سیاسی تقسیم کو دیکھیں تو این ڈی اے کے 40.7 فیصد ووٹرس نے سوشل میڈیا کو کافی حد تک ذمہ دار مانا، جب کہ 53.6 فیصد اپوزیشن کے ووٹرس نے بھی ایسا ہی محسوس کیا۔


سوشل میڈیا پلیٹ فارم غلط اطلاعات، فرضی خبروں، ہتک آمیز اور ہتک عزتی پر مبنی مواد پھیلانے اور تشدد کو براہ راست بھڑکانے میں ان کے مبینہ کردار کے لیے دیر سے جانچ کے دائرے میں آ گئے ہیں۔ کشیدگی اور تشدد کے اندیشہ والے علاقوں میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم تک رسائی پر عارضی طور پر پابندی لگانا ریاستی اور مقامی سطح کے انتظامیہ کے لیے عام بات ہو گئی ہے۔

ایک رکنی کمیٹی نے حال ہی میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو ریگولرائز کرنے کے لیے سفارشات کا ایک سیٹ پیش کیا ہے۔ ایک اہم سفارش انھیں پبلشرز کی شکل میں ماننے کی ہے جب کہ دوسری ان کی سرگرمیوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے انڈین پریس کونسل کے طرز پر ایک ریگولیٹری باڈی بنانے کی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔