25 سالوں سے بی جے پی کی پالیسیوں کے خلاف بولتے رہے کیپٹن امرندر، اب ہاتھ ملانے کا کیا اعلان

’پنجاب لوک کانگریس‘ کے نام سے نئی پارٹی بنانے والے کیپٹن امرندر سنگھ نے کہا کہ بی جے پی اور متحدہ اکالی دل کے ساتھ پنجاب اسمبلی انتخاب کے پیش نظر سیٹوں کی تقسیم پر بات چیت جاری ہے۔

کیپٹن امریندر، تصویر یو این آئی
کیپٹن امریندر، تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور چند ماہ قبل کانگریس چھوڑنے کا اعلان کرنے والے کیپٹن امرندر سنگھ نے اب بی جے پی سے ہاتھ ملانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انھوں نے آج ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ پنجاب اسمبلی انتخاب میں وہ بی جے پی اور متحدہ اکالی دل کے ساتھ اتحاد قائم کریں گے۔ جو کیپٹن امرندر سنگھ گزشتہ تقریباً 25 سالوں سے بی جے پی کی عوام مخالف پالیسیوں کے خلاف بولتے رہے ہیں، ان کی بی جے پی سے دوستی پر اب سوال اٹھنے لگے ہیں۔

کیپٹن امرندر سنگھ نے بی جے پی اور متحدہ اکالی دل کے ساتھ اتحاد کرنے سے متعلق چنڈی گڑھ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا۔ اس دوران انھوں نے کہا کہ بی جے پی اور متحدہ اکالی دل کے رہنما ایس ایس ڈھینڈسا کے ساتھ سیٹوں کی تقسیم کے لیے بات چیت جاری ہے اور مل کر انتخابات میں اتریں گے۔


انہوں نے گورو صاحب کا آشیرواد لینے کے بعد سیاسی میدان میں اپنی نئی اننگز کی شروعات کر تے ہوئے پنجاب لوک کانگریس کا افتتاح کیا اور صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وزیراعظم اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات ہو چکی ہے اور پارٹی کے صدر جے پی نڈا سمیت دیگر لیڈروں کے ساتھ ملاقات ہونی ہے، جس میں الیکشن کی حکمت عملی اور سیٹوں کی تقسیم کے بارے میں بات چیت ہوگی۔

کیپٹن سنگھ نے کہا کہ کانگریس کے کئی وزراء اور رہنما ان کے رابطے میں ہیں لیکن وقت آنے پر ہی اس کا انکشاف کروں گا۔ میری پہلی ترجیح عوامی فلاح و بہبود ہے اور ٹکٹ صرف جیتنے والے لوگوں کو دئیے جائیں گے۔ میری کوشش ہوگی کہ اتحادی جماعتیں جیتنے والے امیدواروں پر ہی داؤ لگائیں۔


انہوں نے کہا کہ پنجاب میں کانگریس کی حالت خراب ہوتی جا رہی ہے اور وزیر اعلیٰ اور کانگریس صدر دونوں پارٹی کو کس سمت لے جا رہے ہیں سب کو معلوم ہے۔ عام آدمی پارٹی مضبوط نہیں ہے کیونکہ اگر آپ میں سب کچھ ٹھیک تھا تو اس کے کئی اراکین اسمبلی پارٹی کیوں چھوڑ دیتے۔

انہوں نے وزیراعلیٰ چرنجیت چنی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ جب سے انہوں نے حکومت سنبھالی ہے، تب سے ہر شعبے میں بدعنوانی بڑھ گئی ہے۔ وہ جو بھی اعلان کر رہے ہیں وہ صرف ڈرامہ ہے۔ بے ادبی کے معاملے میں انہوں نے کہا کہ اب میں تو وزیر اعلیٰ نہیں ہوں اور اقتدار میں بیٹھے لوگ بے ادبی کے لیے بنائی گئی اسپیشل ٹاسک فورس کی فائل منظرعام پرلائیں۔ انہیں کون روک رہا ہے۔ میں نے گزشتہ الیکشن کے منشور میں کیے گئے 92 فیصد وعدے پورے کر دیئے تھے۔ اس سے پہلے ملک میں چندربابو نائیڈو نے 93 فیصد وعدوں کو پورا کیا تھا۔


انہوں نے کہا کہ نئی پارٹی کے لئے آگلے دس دن میں رکنیت مہم شروع کی جائے گی اور یہ کام پنجاب کے ہر ضلع میں شروع کیا جائے گا۔ ہمیں امید ہے کہ الیکشن میں ہماری جیت ہو گی۔ گزشتہ 52 برسوں میں مرکز سے لے کر پارٹی صدر سے لے کر وزیر اعلیٰ تک کا تجربہ میرے پاس ہے۔ کانگریس صدر نوجوت سدھو کے پاکستان کے ساتھ کاروبار کھولنے پر انہوں نے کہا کہ پہلے پاکستان ہمارے فوجیوں کو شوٹ کرنا بند کرے۔

(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔