کسان تحریک میں اب تک 20 کسانوں کی موت، 20 دسمبر کو پیش کیا جائے گا خراج عقیدت

کسان لیڈر جگجیت سنگھ دلیوال نے کہا کہ تحریک کے دوران جن 20 کسانوں نے دم توڑ دیا ہے انہیں 20 دسمبر کو یاد کیا جائے گا اور انہیں صبح 11 بجے سے دوپہر ایک بجے تک خراج تحسین پیش کیا جائے گا۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: سنگھو بارڈر پر مظاہرہ کر رہے کسانوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ آنے والی 20 دسمبر کو تحریک کی ابتداء سے اب تک دم توڑ دینے والے 20 کسانوں کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔ مظاہرہ کرنے والے کسانوں کی یونینوں نے ان اموات کے لئے مرکزی حکومت کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔ وہیں، کسانوں کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت زرعی قوانین کو واپس نہیں لیتی ان کی تحریک یونہی بدستور جاری رہے گی۔

کسان لیڈر جگجیت سنگھ دلیوال نے کہا، ’’ان اموات کے لئے مودی حکومت ذمہ دار ہے۔ بھلے ہمیں اپنی زندگی کو قربان کر دینا پڑے۔ ہم آخر تک لڑیں گے اور جیتیں گے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ تحریک کے دوران جن 20 کسانوں نے دم توڑ دیا ہے انہیں 20 دسمبر کو یاد کیا جائے گا اور انہیں صبح 11 بجے سے دوپہر ایک بجے تک خراج تحسین پیش کیا جائے گا۔


کسانوں کے ایک دھڑے کی طرف سے زرعی قوانین کو فائدہ مند قرار دیتے ہوئے مرکزی حکومت کی حمایت کی جا رہی ہے اور مظاہرین پر کئی طرح کے الزام عائد کیے جا رہے ہیں، اس پر کسان لیڈران نے کہا، ’’مرکزی حکومت ہمارے درمیان دراڑ پیدا کرنے کی کوشش میں ہے لیکن اسے اس میں کامیابی حاصل نہیں ہوگی۔‘‘

وزیر اعظم پر الزام عائد لگاتے ہوئے کسان لیڈر یودھویر سنگھ نے کہا، ’’وزیر اعظم صنعت کاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ کسانوں کے لئے زرعی علاقہ کو کھول دیا گیا ہے۔ وہ پوری دنیا کے ساتھ ’من کی بات‘ کرتے ہیں لیکن ہم کسانوں کے لئے ان کے پاس وقت نہیں ہے۔‘‘


صورت حال کو پھر سے واضح کرتے ہوئے دلیوالا نے کہا کہ وہ قوانین میں ترمیم کے لئے تیار نہیں ہیں اور ان کا مطابلہ ہے متنازعہ زرعی قوانین کو واپس لیا جائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کسان تحریک کی وجہ سے ہی حکومت سرمائی اجلاس طلب نہیں کر رہی۔ انہوں نے کہا، ’حکومت کہتی ہے کہ وہ قوانین کو منسوخ نہیں کرے گی لیکن ہم اسے ایسا کرنے پر مجبور کر دیں گے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔