کورونا کے خلاف ’اسپوتنک‘ کی ایک خوراک بھی کافی، ہندوستان میں ٹرائل کو منظوری

میڈیکل جرنل ’دی لیسینٹ‘ میں حال ہی میں شائع ایک تحقیق کے بعد یہ کہا گیا ہے کہ اسپوتنک لائٹ نے کووڈ-19 کے خلاف 78.6 سے 83.7 فیصد اثر دکھایا ہے جو دو خوراک والے بیشتر ٹیکوں سے بہت زیادہ ہے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

ڈرگ کنٹرولر جنرل آف انڈیا (ڈی سی جی آئی) نے ہندوستانی لوگوں پر اسپوتنک لائٹ کے تیسرے مرحلے کے بریجنگ ٹرائل کی منظوری دے دی ہے۔ اسپوتنک لائٹ روسی ویکسین اسپوتنک کی سنگل ڈوز کووڈ-19 ویکسین ہے۔ میڈیکل جرنل ’دی لیسینٹ‘ میں حال ہی میں شائع ایک تحقیق کے بعد یہ منظوری سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسپوتنک لائٹ نے کووڈ-19 کے خلاف 78.6 سے 83.7 فیصد اثر دکھایا ہے جو کہ بیشتر دو خوراک والے ٹیکوں کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے۔

جولائی میں سی ڈی ایس سی او کی سجیکٹ ماہر کمیٹی نے ملک میں روسی ٹیکے کے تیسرے مرحلہ کی ٹیسٹنگ کی ضرورت کو خارج کرتے ہوئے اسپوتنک-لائٹ کو ایمرجنسی استعمال کے لیے اتھارٹی دینے سے انکار کر دیا تھا۔ کمیٹی نے نوٹ کیا کہ اسپوتنک-لائٹ اسپوتنک-وی کے عنصر-1 کے یکساں تھے اور ہندوستانی آبادی میں اس کی سیکورٹی اور امیونیوجینسٹی ڈاٹا پہلے سے ہی ایک ٹیسٹنگ میں تیار کیا گیا تھا۔


بہر حال، تحقیق میں ارجنٹائنا میں کم از کم 40 ہزار بزرگوں کو شامل کیا گیا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اسپوتنک لائٹ نے مہدف آبادی کے درمیان اسپتال میں داخل ہونے کی تعداد کو 82.1 فیصد سے 87.6 فیصد تک کم کر دیا۔ روسی ڈائریکٹ انویسٹمنٹ فنڈ (آر ڈی آئی ایف) نے گزشتہ سال ہندوستان میں اسپوتنک-وی ویکسین کے تیسرے مرحلہ کے ٹرائل کے لیے ڈاکٹر ریڈیز لیباریٹریز کے ساتھ شراکت داری کی تھی۔ اپریل میں اسپوتنک-وی کو ہندوستان میں ایک ایمرجنسی استعمال اتھارٹی حاصل ہوئی۔ ریڈیز نے 14 مئی کو ایک محدود پائلٹ کے تحت حیدر آباد میں ٹیکہ کی پہلی خوراک دی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔