حد بندی کمیشن کی رپورٹ کے خلاف جموں و کشمیر میں 29 دسمبر کو خاموش احتجاج

جموں و کشمیر اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے کہا کہ ’’دہلی میں بیس تاریخ کو منعقدہ حد بندی کمیشن کی میٹنگ کے دوران جو ڈرافٹ سفارشات سامنے آئی ہیں اپنی پارٹی ان کو مسترد کرتی ہے۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

سری نگر: جموں و کشمیر اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے حد بندی کمیشن کی ڈرافٹ سفارشات کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری پارٹی اس رپورٹ کے خلاف 29 دسمبر کو خاموش احتجاج کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حد بندی کمیشن نے جموں کو کشمیر کے خلاف کھڑا کرنے کی شرمناک کوشش کی ہے جس کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

موصوف صدر نے ان باتوں کا اظہار جمعرات کے روز یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’دہلی میں بیس تاریخ کو منعقدہ حد بندی کمیشن کی میٹنگ کے دوران جو ڈرافٹ سفارشات سامنے آئی ہیں جموں و کشمیر اپنی پارٹی ان کو مسترد کرتی ہے۔‘‘


بخاری نے کہا کہ ہماری پارٹی ان سفارشات کے خلاف 29 دسمبر کو خاموش احتجاج درج کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’’اپنی پارٹی نے فیصلہ لیا ہے کہ ہم 29 دسمبر کو ان سفارشات کے خلاف اپنے منہ پر کالی پٹیاں باندھ کر خاموش احتجاج درج کریں گے تاکہ ہماری آواز بلند ہو سکے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ اگر کمیشن نے کسی خاص پارٹی کے لئے یہ کام کیا ہے تو اس سے زیادہ دردناک بات کوئی نہیں ہے۔

موصوف صدر نے کہا کہ ہم وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی اس مسئلے میں مداخلت کرنے کی اپیل کرتے ہیں اور جموں وکشمیر کی دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا یہ ماننا ہے کہ بی جے پی اور حکومت ہند دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ سابق وزیر نے نیشنل کانفرنس کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اگر اس کے ارکان پارلیمان پہلے ہی کمیشن میں شرکت کرتے تو شاید آج ہمیں یہ دن دیکھنے کو نہیں ملتا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کوششیں ملک کے سیکولر آئیڈیا کو زک پہنچانے کی باعث بن جاتی ہیں۔


قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر حد بندی کمیشن کی سفارشات کے مطابق نئی اسمبلی نشستوں میں جموں کو چھ جبکہ کشمیر کو ایک سیٹ دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق جموں و کشمیر کی 90 اسمبلی نشستوں میں سے اب 9 نشستیں شیڈول ٹرائب اور7 نشستوں کو شیڈول کاسٹ کے لئے مختص رکھی گئی ہیں۔ پی اے جی ڈی نے حد بندی کمیشن کی ان سفارشات کو تفرقہ انگیز، تقسیم کرنے والی اور ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ یکم جنوری کو ان کے خلاف سری نگر میں پر امن احتجاج درج کریں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔