اسمرتی ایرانی پر لگا 25 لاکھ روپے ٹھگنے کا الزام، شوٹر ورتیکا نے درج کرایا مقدمہ!

بین الاقوامی شوٹر ورتیکا سنگھ نے اسمرتی ایرانی، ان کے نجی سکریٹری اور ایک دیگر شخص پر نیشنل ویمن کمیشن کا رکن بنانے کے نام پر 25 لاکھ روپے مانگنے کا الزام لگاتے ہوئے عدالت میں کیس درج کرایا ہے۔

ورتیکا اور اسمرتی ایرانی، تصویر ٹوئٹر @Vartika_Shooter
ورتیکا اور اسمرتی ایرانی، تصویر ٹوئٹر @Vartika_Shooter
user

قومی آوازبیورو

بی جے پی کی شعلہ بیان لیڈر اور مودی حکومت میں کابینہ وزیر اسمرتی ایرانی پر نیشنل ویمن کمیشن (قومی خواتین کمیشن) کا رکن بنوانے کے نام پر 25 لاکھ روپے کی ٹھگی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ یہ الزام بین الاقوامی شوٹر ورتیکا سنگھ نے لگاتے ہوئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ حالانکہ ورتیکا نے ایرانی کے ساتھ جن دو لوگوں کو ملزم بنایا ہے ان میں سے ایک نے ان کے خلاف امیٹھی کے تھانہ میں کیس درج کرایا ہوا ہے۔

ہندی نیوز پورٹل ’جن ستّا‘ پر شائع ایک خبر کے مطابق ورتیکا سنگھ نے ایم پی-ایم ایل اے کورٹ میں کیس داخل کر اسمرتی ایرانی، ان کے نجی سکریٹری وجے گپتا اور ڈاکٹر رجنیش سنگھ پر قومی خواتین کمیشن کا رکن بنانے کے نام پر 25 لاکھ روپے کی ٹھگی کا الزام عائد کیا ہے۔ ورتیکا کی درخواست پر سماعت کے لیے ایم پی- ایم ایل اے کورٹ نے 2 جنوری کی تاریخ طے کی ہے۔ اس دن ہونے والی سماعت میں عدالت طے کرے گی کہ معاملہ اس کے حلقہ اختیار میں آتا ہے یا نہیں۔

شوٹر ورتیکا سنگھ کا الزام ہے کہ مرکزی وزیر کے قریبی لوگوں نے اسے ایک فرضی خط جاری کیا، جس میں انھیں قومی خواتین کمیشن کا رکن مقرر کرنے کی بات لکھی تھی۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ مرکزی وزیر ایرانی کے دو معاونین وجے گپتا اور رجنیش سنگھ نے شروع میں ان سے ایک کروڑ کا مطالبہ کیا تھا، اور پھر بعد میں رقم کو گھٹا کر 25 لاکھ روپے کر دیا۔ انھوں نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ ان میں سے ایک نے ان سے فحش طریقے سے بات کی تھی۔

دوسری طرف ورتیکا کے ذریعہ ملزم بنائے گئے وجے گپتا نے 23 نومبر کو شوٹر اور ایک دیگر شخص کے خلاف امیٹھی کے مسافرخانہ تھانہ میں شکایت درج کرائی تھی، جس میں ان کے خلاف بے بنیاد الزام عائد کر کے ان کی شبیہ کو خراب کرنے کی کوشش کا الزام لگایا گیا تھا۔ پولس نے گپتا کی شکایت پر شوٹر کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی تھی۔ حالانکہ ورتیکا سنگھ کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف یہ ایف آئی آر تب کی گئی جب انھوں نے ان لوگوں کی بدعنوانی ظاہر کرنے کی دھمکی دی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next