’تم کرو تو راس لیلا، ہم کریں تو کیریکٹر ڈھیلا‘، بی جے پی اراکین اسمبلی کی معطلی پر شیوسینا کا طنز

’سامنا‘ میں لکھا گیا ہے کہ اسمبلی میں ریاست کے اہم ایشوز پر مباحثہ کے لیے بی جے پی کے پاس وقت نہیں رہتا ہے، لیکن ایوان کے باہر احتجاجی مظاہرہ کے لیے کافی وقت ہوتا ہے۔

تصویر ٹوئٹر @SaamanaOnline
تصویر ٹوئٹر @SaamanaOnline
user

تنویر

گزشتہ دنوں مہاراشٹر اسمبلی میں ہنگامہ کرنے والے 12 بی جے پی لیڈروں کو ایک سال کے لیے معطل کر دیا گیا تھا، جس پر بی جے پی انتہائی ناراض ہے اور ریاستی گورنر سے ان کی ملاقات بھی ہوئی ہے۔ لیکن برسراقتدار شیوسینا اس پورے معاملے میں بی جے پی پر طنز کے تیر چلاتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک طرف تو شیوسینا نے اپنے رسالہ ’سامنا‘ میں اسمبلی اسپیکر بھاسکر جادھو کی دل کھول کر تعریف کی ہے، اور دوسری طرف بی جے پی کے الزامات کا جواب بھی دیا ہے۔ ’سامنا‘ کے اداریہ میں لکھا گیا ہے کہ اگر بی جے پی کے 12 اراکین اسمبلی کو معطل کر کے جمہوریت کا قتل کیا گیا ہے، تو پھر گزشتہ ایک سال سے 12 اراکین اسمبلی کی فہرست کو گورنر محترم نے اپنے پاس روک کر جو رکھا ہوا ہے اس سے جمہوریت کا قتل نہیں ہو رہا ہے؟

’سامنا‘ میں بی جے پی لیڈروں کے عمل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ ’تم کرو تو راس لیلا اور ہم کریں تو کیریکٹر ڈھیلا‘۔ گویا کہ بی جے پی کوئی کام کرے تو اچھا، اور وہی اگر دوسری پارٹی کرے تو غلط۔ شیوسینا کا کہنا ہے کہ مہاراشٹر کا اپوزیشن ہر معاملے میں صرف مرکز کا ہی نظریہ سامنے رکھتا ہوا نظر آتا ہے، پھر چاہے وہ مراٹھا ریزرویشن کا ایشو ہو یا او بی سی ریزرویشن کا۔ اسی داؤ پیچ میں ان کو اپنے 12 اراکین اسمبلی کو ایک سال کے لیے معطلی کی کارروائی کی بھینٹ بھی چڑھانا پڑا۔


’سامنا‘ میں لکھا گیا ہے کہ اسمبلی میں ریاست کے اہم ایشوز پر مباحثہ کے لیے بی جے پی کے پاس وقت نہیں رہتا ہے، لیکن ایوان کے باہر احتجاجی مظاہرہ کے لیے کافی وقت ہوتا ہے۔ ریاست میں مراٹھا ریزرویشن، او بی سی سیاسی ریزرویشن جیسے ایشوز پر صرف دور سے باتیں کرنا ہی بی جے پی کو آتا ہے، ان ایشوز پر مل کر کوئی حل نکالنے کے لیے بی جے پی اسمبلی میں بحث کرنے کے لیے ذرا بھی تیار نظر نہیں آتی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔