کابینہ توسیع: ’اگر پرفارمنس ہی پیمانہ ہے تو مودی-شاہ کو بھی ہٹ جانا چاہیے‘

کانگریس ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی اپنے عہدہ سے ہٹ جانا چاہیے کیونکہ انھوں نے ملک کے امن و امان کو کوڑے میں ڈال دیا ہے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

کابینہ توسیع کو لے کر جاری ہلچل کے درمیان مرکزی وزراء کے استعفیٰ کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ رمیش پوکھریال نشنک اور ڈاکٹر ہرش وردھن جیسے لیڈروں نے مرکزی کابینہ سے استعفیٰ دے دیا ہے، یا پھر یوں کہیں کہ ان کی چھٹی کر دی گئی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ نئی کابینہ میں پرفارمنس یعنی کارکردگی کی بنیاد پر وزراء کو ہٹایا اور پروموٹ کیا جا رہا ہے۔ اب اس بات پر کانگریس نے طنز کسا ہے۔ پارٹی ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا کا کہنا ہے کہ اگر پرفارمنس ہی پیمانہ ہے تو وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو بھی ہٹ جانا چاہیے۔ انھوں نے مزید کہا کہ کابینہ توسیع صرف ’ڈیفکٹر ایڈجسٹمنٹ ایکسرسائز‘ ہے۔

کانگریس ترجمان کا کہنا ہے کہ اگر پرفارمنس کو سامنے رکھ کر ہی کابینہ میں توسیع کی جانی ہے تو سب سے پہلے مرکزی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کو ہٹ جانا چاہیے، کیونکہ ان کے رہتے چین نے ہماری زمین پر قبضہ کر لیا ہے۔ سرجے والا نے بعد ازاں امت شاہ پر طنز کستے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ کو بھی ہٹ جانا چاہیے کیونکہ ان کے رہتے موب لنچنگ اور کسٹوڈیل ڈیتھ (حراست میں موت) جیسے معاملے عام ہو گئے ہیں۔


وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر برائے پٹرولیم دھرمیندر پردھان کو بھی رندیپ سرجے والا نے تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو بھی اپنے عہدہ سے ہٹ جانا چاہیے کیونکہ انھوں نے ملک کے امن و امان کو کوڑے میں ڈال دیا ہے۔ دھرمیندر پردھان کو بھی ہٹ جانا چاہیے جو تیل کی قیمتوں کو قابو میں کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔