شیوسینا کا الیکشن کمیشن پر سنگین الزام، کہا- ’ضابطہ اخلاق کے باوجود مہایوتی کو پیسے تقسیم کرنے کی چھوٹ‘
سنجے راوت نے کہا کہ بی جے پی منصفانہ طریقے سے الیکشن نہیں لڑتی۔ شیوسینا لیڈر نے کہا کہ مغربی بنگال میں ہندو مسلم مسئلہ ناکام ہونے کے بعد اب یہ ای ڈی بمقابلہ ترنمول کانگریس میں بدل گیا ہے

شیوسینا (یو بی ٹی) کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے بدھ کو مہاراشٹر ریاستی الیکشن کمیشن پر سنگین الزام لگائے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہونے کے باوجود ریاست میں حکمراں مہایوتی کی پارٹیاں، بی جے پی، شیو سینا (شندے گروپ) اور این سی پی کو گھر گھر جاکر مہم چلانے اور پیسے تقسیم کرنے کی کھلی چھوٹ دی جارہی ہے۔
ممبئی میں منعقد ایک پریس کانفرنس میں سنجے راوت نے کہا کہ قواعد کے مطابق منگل کو انتخابی مہم ختم ہو گئی تھی، اس کے باوجود الیکشن کمیشن نے ’ڈور ٹو ڈور‘ مہم چلانے کی اجازت دے دی، جو سوالوں کے گھیرے میں ہے۔ راوت نے کہا کہ جب ضابطہ اخلاق نافذ ہے اور انتخابی مہم ختم ہوچکی ہے،تب گھر گھرجاکر مہم چلانے کی اجازت دینا کس طرح کا ضابطہ ہے؟ یہ براہ راست طور پر بی جے پی، ایکناتھ شندے اور اجیت پوار کو پیسے بانٹنے کا لائسنس دینے جیسا ہے۔
سنجے راوت نے ووٹر لسٹ سے بڑے پیمانے پر ناموں کو حذف کرنے کا بھی الزام لگایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بہار میں تقریباً 60 لاکھ، اتر پردیش میں1.25 کروڑ اور مغربی بنگال میں تقریباً 54 لاکھ ووٹروں کے نام لسٹ سے ہٹائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کٹوتی سے انتخابی نتائج پر اثر پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ریاست کے لاکھوں ووٹروں کے ناموں کو ہٹانے سے الیکشن کا رخ بدل سکتا ہے۔ ایسی ہی صورتحال مہاراشٹر میں دیکھی جا رہی ہے۔
بی جے پی پر نشانہ لگاتے ہوئے راوت نے کہا کہ پارٹی منصفانہ طریقے سے الیکشن نہیں لڑتی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مغربی بنگال میں ہندو مسلم مسئلہ ناکام ہونے کے بعد اب یہ مقابلہ ای ڈی بنام ترنمول کانگریس میں بدل گیا ہے۔ راوت نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تمام مبینہ سازشوں کے باوجود ممتا بنرجی مغربی بنگال میں بھاری اکثریت سے جیتیں گی۔
واضح رہے کہ مہاراشٹر میں بی ایم سی سمیت 29 میونسپل کارپوریشنوں کے لیے انتخابات 15 جنوری 2026 کو ایک ہی مرحلے میں ہوں گے۔ ووٹر الیکشن میں آسانی سے حصہ لے سکیں اس کے لئے عام تعطیل کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ وہیں گریٹر ممبئی کے تمام پولنگ اسٹیشنوں پر صبح 7:30 بجے سے شام 5:30 بجے تک ووٹنگ ہوگی۔ نتائج کا اعلان 16 جنوری 2025 کو کیا جائے گا۔ غور طلب ہے کہ نامزدگی کا عمل 23 دسمبر 2025 کو شروع ہوا تھا۔ پرچہ نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ 30 دسمبر تھی۔