ایس آئی آر کے سبب 28 سال بعد ’زندہ‘ ہو گیا شریف، مظفر نگر کے گاؤں میں نظر آیا جذباتی ماحول

شریف کی اچانک آمد سے خاندان، پڑوسیوں اور رشتہ داروں میں خوشی کے ساتھ ساتھ حیرانی بھی ہوئی۔ اس موقع پر شریف کو یہ بھی معلوم ہوا کہ گزشتہ 28 سالوں میں ان کے خاندان کے کئی افراد انتقال کر چکے ہیں

<div class="paragraphs"><p>ووٹر لسٹ / تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ملک کے مختلف صوبوں میں جاری ووٹر لسٹ رویژن (ایس آئی آر) شروع سے ہی سرخیوں میں رہا ہے۔ کہیں ایس آئی آر کے ذریعہ فرضی نام شامل کئے جانے کی باتیں سنی گئیں تو کہیں ہزاروں لوگوں کے نام حذف کئے جانے کا معاملہ سامنے آیا حد تو تب ہوگئی جب گاؤں کے سربراہ کہے جانے والے پردھان کا بھی نام ایس آئی آرمسودہ لسٹ میں شامل نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ ایس آئی کے دوران کام کے دباؤ کی وجہ سے درجنوں اہلکاروں کی خودکشی نے اس پورے عمل کو ہی متنازع بنا دیا تھا۔ اس دوران اترپردیش کے مظفرنگر ضلع میں ایس آئی آر کی وجہ سے ایک شخص کے ’زندہ‘ ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔

حال ہی میں مظفر نگر ضلع میں اس وقت پورا مال جذباتی ہوگیا جب قریب 3 دہائی پہلے مردہ مان لیا گیا ایک شخص اچانک واپس آگیا۔ ’آج تک‘ کے مطابق مظفر نگر ضلع کے کھتولی قصبے کے محلہ بالارام میں رہنے والے شریف 28 سال بعد اپنے رشتہ داروں  کے پاس لوٹے جس سے رشتہ داراور مقامی لوگ جذباتی ہوگئے۔ انہیں اپنے گھر اور گاؤں کی یاد کیوں آئی، اس کے پیچھے وجہ بھی بہت دلچسپ ہے۔


شریف کی پہلی بیوی کا 1997 میں انتقال ہوگیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے دوسری شادی کرلی اور اپنی دوسری بیوی کے ساتھ مغربی بنگال چلے گئے۔ کچھ عرصہ تک خاندان لینڈ لائن فون کے ذریعے رابطے میں رہا لیکن رفتہ رفتہ تمام رابطے منقطع ہوگئے۔ اہل خانہ نے مغربی بنگال میں ان کے بتائے گئے پتے پر ڈھونڈنے کی کئی کوششیں کیں لیکن کوئی معلومات نہیں مل سکی۔ بالآخر اہل خانہ نے مان لیا کہ شریف کا انتقال ہوگیا ہے۔

اسی دوران مغربی بنگال میں جاری ایس آئی آرعمل کے لیے ضروری دستاویزات کی ضرورت پڑنے پر شریف کو اپنا آبائی وطن یاد آیا اور دو دن قبل وہ اپنے گاؤں کھتولی پہنچے۔ وہ 28 سال میں پہلی بار اپنے اصل گھر واپس آئے ہیں۔ ان کی اچانک آمد سے خاندان، پڑوسیوں اور رشتہ داروں میں خوشی کے ساتھ ساتھ حیرانی بھی ہوئی۔ اس موقع پر شریف کو یہ بھی معلوم ہوا کہ گزشتہ 28 سالوں میں ان کے خاندان کے کئی افراد انتقال کر چکے ہیں۔


شریف کے بھتیجے محمد اسلم نے بتایا کہ خاندان نے تقریباً 15 سے 20 سالوں تک مغربی بنگال کے مختلف مقامات پر جس میں کھڑگ پور اور آسنسول بھی شامل تھے، ان کی تلاش کی لیکن کوئی سراغ نہیں ملا۔ جب خبر آئی کہ شریف واپس آگئے ہیں تو خاندان کو شروع میں یقین کرنا مشکل ہوا۔ شریف گھر واپس آئے تو بھیڑ جمع ہوگئی، لوگ ان سے ملنے آئے اور دور دراز کے رشتہ داروں نے ان سے ویڈیو کال کے ذریعے بات کی۔

دریں اثنا شریف نے بتایا کہ 1997 میں اپنی دوسری شادی کے دوران محدود وسائل اور مواصلاتی سہولیات کی کمی کی وجہ سے ان کا اپنے خاندان سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف اس لیے واپس آئے کہ سرکاری دستاویزات ضروری ہیں، جس کے بعد وہ واپس چلے جائیں گے۔ اطلاعات کے مطابق ضروری دستاویزات حاصل کرنے اور اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے بعد شریف اب مغربی بنگال واپس چلے گئے ہیں جہاں وہ اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ تقریباً 3 دہائیوں سے زندگی گزاررہے ہیں۔