شنکرآچاریہ نے یوگی حکومت کو بھیجا قانونی نوٹس، 24 گھنٹے میں نوٹس واپس نہ لینے کی توہین عدالت پر کارروائی کا الٹی میٹم
جیوتش پیٹھ کے شنکراچاریہ کی جانب سے بھیجے گئے قانونی نوٹس میں 19 جنوری کے میلہ انتظامیہ کے نوٹس کو سوامی اویمکتیشورانند کی ساکھ، عزت، وقار اور ان کے مالی وسائل کو نقصان پہنچانے والا بتایا گیا ہے۔

پریاگ راج ماگھ میلے سے شروع ہوا تنازعہ تھمنے کے بجائے طول پکڑتا جارہا ہے۔ میلہ انتظامیہ کی جانب سے سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی سے سوامی ہونے کا ثبوت مانگے جانے کے بعد اب جیوتش پیٹھ کے شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی نے اترپردیش حکومت کو قانونی نوٹس بھیج دیا ہے۔ نوٹس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اگر میلہ انتظامیہ سے متعلق 19 جنوری کا نوٹس 24 گھنٹے کے اندر واپس نہیں لیا گیا تو حکومت اور ذمہ دار افسران کے خلاف توہین عدالت سمیت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
قانونی نوٹس کے مطابق 19 جنوری کا میلہ انتظامیہ کا نوٹس سوامی اویمکتیشورانند کی ساکھ، عزت، وقار اور ان کے مالی وسائل کو نقصان پہنچانے والا بتایا گیا ہے۔ نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ نوٹس ایسے معاملے میں دخل دیتا ہے جو پہلے سے ہی سپریم کورٹ میں پہلے سے زیر التواہے۔ اسے عدالت کے وقار کو چیلنج کرنے والا قدم قرار دیا گیا ہے۔
نوٹس میں الٹی میٹم دیا گیا ہے کہ اگر مقررہ وقت میں نوڈس واپس نہ لیا گیا تو توہین عدالت ایکٹ 1971 اور آئین کے آرٹیکل 129 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی شنکراچاریہ روایت اور سوامی جی کی شبیہ کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں بھی قانونی قدم اٹھائے جائیں گے۔
اس پورے معاملے میں 3 دیگر شنکراچاریوں کی جانب سے اٹھائے گئے پرانے تنازع کا بھی ذکر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سوامی اویمکتیشورانند کا ’پٹا ابھیشیک‘ ابھی پورا نہیں ہوا تھا اور اس پر 12 اکتوبر 2022 کو سپریم کورٹ میں عبوری درخواست دائر کرکے مطالبہ کیا گیا تھا کہ اپیلوں کے تصفیہ ہونے کسی بھی طرح کا راج ابھیشیک یا تاجپوشی نہ کرائی جائے۔
نوٹس میں سنگین الزامات لگاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس درخواست کے ساتھ گووردھن مٹھ، پوری کے شنکراچاریہ کی جانب سے مبینہ طور پر ایک جعلی اور من گھڑنت درخواست بھی جمع کرائی گئی تھی۔ اس کے ذریعہ عدالت کے سامنے یہ غلط بات رکھی گئی کہ انہوں نے سوامی اویمکتیشورانند کی تقرری کو مسترد کر دیا ہے. اس کیس کی سماعت 14 اکتوبر 2022 کو ہوئی تھی۔ اس وقت سوامی اویمکتیشورانند اپنی مصروف مذہبی رسومات کی وجہ سے عدالت میں اپنا مؤقف پیش کرنے سے قاصر رہے۔ اس دوران سپریم کورٹ نے پیش کردہ حقائق کی بنیاد پر عبوری حکم جاری کیا۔ حالانکہ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ حکم عملی طور سے غیر موثر تھا کیونکہ اس سے پہلے ہی ان کا ابھیشیک ہوچکا تھا۔
سوامی اویمکتیشورانند نے بعد میں 9 مارچ 2024 کو سپریم کورٹ میں ایک اور درخواست دائر کرکے سوامی واسودیوانند سرسوتی پر جھوٹی گواہی یعنی فورجری کی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ غلط حقائق کی بنیاد پر عدالت کو گمراہ کیا گیا۔ اب سبھی کی نظریں اس بات پر لگی ہوئی ہیں کہ اتر پردیش حکومت 24 گھنٹے کی ڈیڈ لائن کے اندر کیا قدم اٹھاتی ہے۔ اگر نوٹس واپس نہیں لیا گیا تو یہ معاملہ ایک بار پھر سپریم کورٹ تک پہنچ سکتا ہے اور قانونی لڑائی مزید تیز ہونے کا خدشہ ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔