خاتون آئی اے ایس افسر کے کرائے کے گھر میں سیکس ریکیٹ کا پردہ فاش، پولیس کی چھاپے ماری میں 4 لڑکیاں اور 5 لڑکےگرفتار
سرویش دویدی نے ابتدائی طور پر خاتون افسر کو گمراہ کرنے کے لیے اپنی فیملی کو کرائے کے مکان میں رکھا تھا، کچھ عرصے بعد اس نے فیملی کو اپنے پرانے گھر میں منتقل کر دیا، وہاں غیر اخلاقی سرگرمیاں شروع کردیں

اترپردیش کے پریاگ راج میں ایک آئی اے ایس افسر کے گھر پر چل رہےجسم فروشی کے اڈے کا پردہ فاش ہونے سے علاقے میں سنسنی پھیل گئی ہے۔ گزشتہ روز پریاگ راج پولیس نے کیڈ گنج واقع ایک خاتون آئی اے ایس افسر کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا اورجسم فروشی کے ریکیٹ کا پردہ فاش کیا۔ ’آج تک‘ کی رپورٹ کے مطابق 3 ماہ قبل سرویش دویدی نامی شخص نے اپنے خاندان کے ساتھ رہنے کا وعدہ کرکے 15,000 روپے ماہانہ کرائے پر مکان لیا تھا۔ کچھ دن بعد ہی محلے کے لوگوں کو وہاں مشتبہ سرگرمیوں اور رات گئے لڑکے اور لڑکیوں کے آنے جانے سے شک ہوا جس کی اطلاع انہوں نے پولیس کو دی۔ جب پولیس ٹیم نے گھر پر چھاپہ مارا تو وہاں الگ الگ کمروں سے 4 لڑکیاں اور سرغنہ سمیت 5 لڑکوں کو قابل اعتراض حالت میں حراست میں لیاگیا۔
سرویش دویدی نے ابتدائی طور پر خاتون افسر کو گمراہ کرنے کے لیے اپنی فیملی کو اس مکان میں رکھا تھا۔ کچھ عرصے بعد اس نے فیملی کو اترسوئیا واقع اپنے پرانے گھر میں منتقل کر دیا اور وہاں غیر اخلاقی سرگرمیاں شروع کردیں۔ دویدی نے مکان کے ایگریمنٹ میں کہا تھا کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ رہے گا لیکن جلد ہی یہ جگہ جسم فروشی کا اڈہ بن گئی۔
پولیس کے چھاپے کے دوران گرفتار کی گئی لڑکیوں میں سے ایک مغربی بنگال اور دوسری وارانسی کی رہنے والی ہے، جب کہ دیگر دو پریاگ راج کی ہی رہنے والی ہیں۔ گرفتار کیے گئے چاروں لڑکے مقامی باشندے بتائے جارہے ہیں۔پولیس کارروائی کے وقت سرغنہ سرویش دویدی، گھر کے باہر نگرانی کر رہا تھا تاکہ کسی کو شک نہ ہو لیکن پولیس نے اسے بھی دبوچ لیا۔
واردات کے حوالے سے کیڈ گنج کے مقامی باشندوں نے بتایا کہ گھر میں نامعلوم لوگوں کی مسلسل آمد ورفت سے یہاں کا ماحول خراب ہورہا تھا۔ پولیس نے جب گھر کا دروازہ کھلوانے کی کوشش کی تو اندر سے کوئی جواب نہیں ملا جس کے بعد پولیس ٹیم نے جبراً اندرگھس کر ملزمین کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ فی الحال تمام ملزمین کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔