نیپالی مزدوروں کو ویکسین لگانے سے متعلق اتراکھنڈ حکومت سے جواب طلب

چیف جسٹ آر ایس چوہان و جسٹس آلوک کمار ورما کی دو رکنی بنچ نے ریاست کے چیف سکریٹری اوم پرکاش اور صحت کے چیف سکریٹری کو نوٹس جاری کرکے تین ہفتوں میں جواب پیش کرنے کے لئے کہا ہے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نینی تال: اتراکھنڈ میں رہنے والے نیپالی مزدوروں کو کورونا ویکسین لگائے جانے کے معاملے میں دائر مفاد عامہ کی عرضی کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے حکومت سے تین ہفتوں میں جواب داخل کرنے کے لئے کہا ہے۔ ساتھ ہی مرکزی حکومت کو بھی فریق بنائے جانے کی ہدایات دی ہے۔ دہلی یونیورسٹی کے قانون (لاء) کی طالب علم میدھا پانڈے کے خط کا از خود نوٹس لیتے ہوئے ہائی کورٹ نے مفاد عامہ کی عرضی دائر کی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ کورونا وبا کے پیش نظر اتراکھنڈ میں رہ رہے نیپالی مزدوروں کو بھی ویکسین لگائی جانی چاہیے۔ ہندوستانی حکومت کی گائڈ لائن کے مطابق ویکسین لگائے جانے سے قبل رجسٹریشن ضروری ہے اور رجسٹریشن کرانے کے لئے آدھار کارڈ ہونا لازمی ہے جو کہ نیپال مزدوروں کے پاس دستیاب نہیں ہے۔

گزشتہ 5 مئی کو تحریر کیے گئے خط میں دونوں ممالک کے درمیان 13 جولائی 1950 کو ہوئے ہند۔ نیپال دوستی معاہدے اور ہندوستان کے آئین کی دفعہ 226 کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے اس معاملے میں خود نوٹس لینے اور ہندوستان و ریاستی حکومتوں کو اس سلسلے میں ضروری ہدایت دینے کی بات کہی ہے۔ چیف جسٹ آر ایس چوہان و جسٹس آلوک کمار ورما کی دو رکنی بنچ نے ریاست کے چیف سکریٹری اوم پرکاش اور صحت کے چیف سیکریٹری کو نوٹس جاری کرکے تین ہفتوں میں جواب پیش کرنے کے لئے کہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت کو بھی فریق بنانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔