کووڈ-19 کے خلاف جنگ میں ’اِسرو‘ کا بڑا کارنامہ، دیسی آکسیجن کنسنٹریٹر کا ایجاد

اِسرو کے ذریعہ تیار کردہ آکسیجن کنسنٹریٹر پریشر سوئنگ ایڈسارپشن کے ذریعہ ہوا سے نائٹروجن گیس کو الگ کر آکسیجن کی مقدار کو بڑھا کر اسے مریضوں کو فراہم کرے گا۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

ہندوستان کی کووڈ کے خلاف جاری جنگ میں اِسرو لگاتار اپنی شراکت داری نبھا رہا ہے۔ اب انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اِسرو) کے وکرم سارابھائی اسپیس سنٹر (وی ایس ایس سی) نے میڈیکل آکسیجن کنسنٹریٹر بنایا ہے جس کا نام ’سواس‘ دیا گیا ہے، جو کہ آکسیجن سپورٹ پر رہنے والے مریض کو آکسیجن کی بہترین سطح 95 فیصد سے زیادہ آکسیجن فراہم کرے گا۔

اِسرو کے ذریعہ تیار کردہ آکسیجن کنسنٹریٹر پریشر سوئنگ ایڈسارپشن کے ذریعہ ہوا سے نائٹروجن گیس کو الگ کر آکسیجن کی مقدار کو بڑھا کر اسے مریضوں کو فراہم کرے گا۔ یہ ایک منٹ کے اندر تقریباً 10 لیٹر آکسیجن دینے میں اہل ہے۔ اس سے ایک ہی وقت میں دو مریضوں کا علاج ہو سکتا ہے۔


واضح رہے کہ اِسرو کورونا وبا میں لگاتار ملک کے حق میں کام کر رہا ہے۔ ’سواس‘ کا ایجاد اس سمت میں ایک بڑا کارنامہ ہے۔ اس سے قبل ملک کو اِن ہاؤس میڈیکل ٹیکنالوجی کے علاوہ بڑے بڑے ٹیکس کے ذریعہ لیکوئڈ آکسیجن بھیجا گیا۔ اِسرو کے ذریعہ بنائے گئے یہ کنسنٹریٹر ’سواس‘ 600 واٹ پاور کا ہے جو کہ 220 وی/50 ہرٹز کے وولٹیج پر چلے گا۔ اس میں آکسیجن کنسنٹریشن 82 فیصد سے 95 فیصد سے زیادہ ہوگا۔ اس میں فلو ریٹ اور لو پیوریٹی یا کم یا ہائی لیول پیوریٹی کے لیے آڈیبل الارم بھی رکھا گیا ہے۔ اِسرو کے ذریعہ بنائے گئے اس آکسیجن کنسنٹریٹر کا وزن تقریباً 44 کلو کا ہے جو کہ آکسیجن کنسنٹریشن، پریشر اور فلو ریٹ کو ڈسپلے کرے گا۔

وی ایس ایس سی کا کہنا ہے کہ میڈیکل ایکوئپمنٹ بنانا اِسرو کے تحت نہیں آتا، کیونکہ اس میں ہیومن سائیکولوجی کی گہری سمجھ چاہیے۔ سانس سے جڑے ڈیوائس بنانا ڈاکٹرس کے تعاون کے بغیر مشکل ہے۔ ایسے میں اِسرو میں کام کرنے والے انجینئرس نے اس پورے پروسیس کو سمجھا، تھیوری کو اسٹڈی کیا اور اسے بنانے میں کارگر ہوئے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔