معیشت کے ہتھیار سے ہی اسرائیل کو ہرایا جا سکتا ہے: سید خرم رضا

فلسطین میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف آن لائن تجزیاتی میٹنگ میں سید خرم رضا، ایم ودود ساجد، سرفراز آرزو اور ڈاکٹرسلیم خان کی شرکت

user

اعظم شہاب

ممبئی: فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کا کیا نتیجہ نکلے گا؟ کیا یہ جنگ کسی نئے ورلڈ آرڈر کا پیش خیمہ بن سکتی ہے، مسلم ممالک پر یہ کس حد تک اثر انداز ہوسکتی ہے؟ یا یہ کہ اسرائیل اس سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟ نیوز اینڈ ویوز نیٹ ورک کی جانب سے منعقد ایک آن لائن مذاکرے میں قومی آواز کے پولیٹیکل ایڈیٹر جناب سید خرم رضا ان سوالوں کے جواب میں اس بات سے ہی انکار کرتے ہیں کہ یہ کوئی جنگ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک طاقتور ملک کا ایک کمزور ترین ملک پر اپنی طاقت کا مظاہرہ ہے۔ وہ ایک ٹیسٹ کر رہا ہے اور اس طرح کا ٹیسٹ وہ وقتاً فوقتاً کرتا رہتا ہے تاکہ اپنی آبادی کا تناسب درست رکھ سکے۔ اسرائیل اور فلسطین کی طاقت میں کوئی تناسب نہیں ہے۔ فی الوقت جو تصادم جاری ہے اس میں فلسطین کے حق میں صرف ایک بات جاتی ہے کہ فلسطینیوں کے اندر موت کا خوف نہیں ہے جبکہ اسرائیل موت سے بری طرح خائف ہیں۔

اس مذاکرے میں جناب سید خرم رضا کے علاوہ ممبئی سے روزنامہ ہندوستان کے ایڈیٹر جناب سرفراز آرزو، دہلی سے سنیئر جرنلسٹ جناب عبدالودو ساجد اور ممبئی سے سینئر جرنلسٹ و کالم نگار جناب ڈاکٹر سلیم خان شریک ہوئے۔ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری اس مذاکرے میں جناب خرم رضا نے مزید کہا کہ اس تصادم کے ذریعے دراصل اسرائیل فلسطین میں موجود ان طاقتوں کو ختم کرنا چاہتا ہے جو اس کے توسیعی منصوبے میں کسی نہ کسی شکل میں رکاوٹ پیدا کرسکتی ہیں۔ فی الوقت اس رکاوٹ کا سب سے بڑا علمبردار حماس ہے اس لیے وہ غزہ پرمسلسل بمباری کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تصادم کے نتیجے میں اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ حماس کوئی بہت بڑی جنگ جیتنے جا رہا ہے تو یہ حقیقت سے انکار ہوگا۔ اس بار بھی وہی سب ہو رہا ہے جو اس سے پہلے ہوا۔ وہی اقوامِ متحدہ کی اپیل، وہی او آئی سی کے بیانات اور وہی کچھ مسلم ممالک کے ذریعے دی جانے والی دھمکیاں۔ مگر سچائی یہ ہے کہ ان سب سے اسرائیل پر کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ جب تک نیتن یاہو چاہیں گے جنگ جاری رہے گی اور جب وہ چاہیں گے جنگ بند ہوجائے گی۔


خرم رضا نے کہا کہ آج کے دور میں جو سب سے بڑا ہتھیار ہے وہ معیشت ہے۔ ہر دور میں ہتھیاروں کی نوعیت تبدیل ہوتی رہی ہے۔ کبھی افرادی قوت سب سے بڑا ہتھیار ہوا کرتی تھی تو کبھی تعلیمی قوت۔ لیکن آج کے دور میں معیشت دنیا کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ امریکی معیشت پر پوری طرح یہودیوں کا قبضہ ہے اس لیے وہ امریکہ سے جو چاہتے ہیں کروا لیتے ہیں۔ یہی صورت حال عربوں کے ساتھ بھی ہے کہ عربوں کے بھی پوری معیشت پر کسی نہ کسی طرح اسرائیل حاوی ہے۔ اس لیے اگر اسرائیل کو شکشت دینا ہے تو دنیا کے سب سے بڑے ہتھیار کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ہتھیار کو استعمال کرنے کے بعد نہ صرف فلسطین ومسجد اقصیٰ کی حفاظت کی جاسکتی ہے، بلکہ اسرائیل سمیت پوری دنیا کو اپنی مرضی کے مطابق چلایا جاسکتا ہے۔ خرم رضا نے یہ بھی کہا کہ حماس کو اسی طرح تیار کیا جا رہا ہے جس طرح اس سے قبل صدام حسین کو تیار کیا گیا تھا۔ ایک کمزور مخالف کو اسرائیل اپنی میڈیا کے ذریعے ایک طاقتور دشمن بناکر پیش کررہا ہے تاکہ وقت آنے پر وہ اپنی مرضی کے مطابق فیصلے کروا سکے۔ (سید خرم رضا کی پوری بات چیت سننے کے لیے مندرجہ ذیل ویڈیو پر کلک کریں)۔

اس مذاکرے میں موجود سینئر جرنلسٹ ایم ودود ساجد نے ترکی یا ایران کی جانب سے اسرائیل کو دی جا رہی دھمکیوں کے بارے میں کہا کہ یہ صریح منافقت ہے۔ جب تک آپ گراؤنڈ پر نہیں ہیں، آپ کی کمک وہاں نہیں پہنچ سکتی ہے تو آپ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ ہاتھ توڑ دیں گے یا اسرائیل کو سبق سکھائیں گے؟ ترکی کے پسِ منظر میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل سے آپ کے تجارتی وسفارتی تعلقات ہیں، اگر ترکی اسرائیل کا ہاتھ توڑتا ہے تو پھر ان تجارتی مفاد کا کیا ہوگا جو کئی بلین ڈالر میں ہیں؟ تو یہ سراسر منافقت ہے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح او آئی سی نے کہا ہے کہ ہم اسے برداشت نہیں کریں گے۔ سچائی یہ ہے کہ کوئی عملی اقدام فی الوقت اسلامی دنیا کی جانب سے ممکن نہیں ہے۔ البتہ اتنا ضرور ہوا ہے اس بار کہ پوری دنیا میں اسرائیل کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں جو ابھی تک کی تاریخ میں نہیں ہوئے تھے۔ اسرائیل پر اس کا نفسیاتی اثر ضرور ہوا ہے لیکن اس کا کوئی مادیاتی اثر بھی پڑے گا؟ مجھے اس پر یقین نہیں ہے۔


ایم ودود ساجد نے خرم رضا کی اس بات سے کہ حماس کو بھی صدام حسین کی طرح ایک بہت بڑے دشمن کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن آپ بقیہ فلسطینیوں کے بارے میں کیا کہیں گے جو اسرائیل کی تمام تر رکاوٹوں کے باوجود جذبہ شہادت سے شرشار مسجد اقصی میں نماز ادا کرنے جاتے ہیں؟ فلسطین کا ایک ایک بچہ اسرائیلی فوجی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فی الوقت صورت حال یہ ہے کہ خطرے کی ڈھال پر اسرائیل بیٹھا ہوا ہے اور فلسطینیوں کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے۔

ممبئی کے روزنامہ ہندوستان کے ایڈیٹر جناب سرفراز آرزو نے کہا کہ فلسطین کی جب بات آتی ہے تو پوری دنیا دوہرا معیار اختیار کر لیتی ہے۔ امریکہ و دیگر یوروپی ممالک چین میں جس طرح ایغور یا روہنگیا مسلمانوں کے بارے میں بولتے ہیں اس طرح فلسطینی مسلمانوں کے بارے میں نہیں بولتے۔ فلسطین میں انسانی حقوق کی جو پامالی ہو رہی ہے اس کے بارے میں ان کا ردعمل وہ نہیں ہوتا جو دیگر جگہوں پر انسانی حقوق کی پامالی پر ہوتا ہے۔ جبکہ اس کے برخلاف ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو اتنا وقت دیا جا رہا ہے کہ وہ حماس کے خلاف جس حد تک طاقت استعمال کرنا چاہتا ہے کرلے۔ انہوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی میٹنگ نہایت عجلت میں طلب کی جاتی ہے، مگر ہم دیکھتے ہیں کہ اسرائیلی حملے کے بارے میں سلامتی کونسل کی جو میٹنگ جمعہ کو ہونے والی تھی وہ اتوار تک کے لیے ملتوی کردی گئی اور اتوار کو جو میٹنگ ہوئی اس کا بھی کوئی اعلامیہ تک جاری نہیں کیا گیا۔ سرفراز آرزو نے کہا کہ فلسطین اور اسرائیل تنازعے کا حل ٹو نیشن تھیوری کے ذریعے پیش کیا جاتا ہے لیکن یہ کوئی پائیدار حل نہیں ہے۔ اس کے ذریعے ایک محکوم ملک ہی وجود میں آئے گا جس کی نہ کوئی آرمی ہوگی اور نہ ہی کوئی ایئرپورٹ وغیرہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سرِ دست دنیا کو آگے آکر اسرائیل کی جارحیت پر بریک لگانا چاہیے، مگر ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا کو اس کے لیے فرصت نہیں ہے۔


سینئر جرنلسٹ وکالم نگار ڈاکٹر سلیم خان نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کے حالیہ تصادم میں یہودی پہلی رمضان سے مسجد اقصیٰ کو پامال کر کے مسلمانوں کو اشتعال دلاتے رہے اور جمعتہ الوداع کو انہوں نے 180/ نمازیوں کو زخمی کرکے ساری حدیں پار کردیں۔ اس پر حماس نے انہیں مسجد اقصیٰ سے حفاظتی دستے ہٹانے کی وارننگ دی اور پیر کے دن 6 بجے تک کا وقت دے کر راکٹ حملہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ میں کامیابی اہداف کے حصول کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ حماس نے مسجد اقصیٰ کی عملی حفاظت کرکے اپنا پہلا ہدف حاصل کرلیا۔ حماس زمین کی نہیں شعور کی جنگ لڑ رہا ہے۔ وہ فلسطین کے علاوہ دنیا بھر کے انصاف پسندوں سے مسجد اقصیٰ کے لیے احتجاج کروانے میں کامیاب ہوا۔ اس کے حملوں نے اسرائیل میں ایمرجنسی لگو ادی اور ائیرپورٹ بند کروا کر اسرائیل کو دنیا سے کاٹ دیا۔ ملک کے اندر خانہ جنگی کی کیفیت پیدا ہوگئی اور اسرائیلی سائرن کی آواز پر بنکروں میں چھپنے پر مجبور ہوگئے۔ یہ اس کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کامیابی اس سے قبل افغانستان میں طالبان اور یمن میں حوثیوں کو مل چکی ہے۔ دنیا بھر میں اپنی آزادی کی خاطر جان کی بازی لگانے والے کامیاب ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ اس معاملے میں ہندوستان کے موقف پر ڈاکٹر سلیم خان نے کہا کہ اسرائیل نے برے وقت میں ہندوستان کی کوئی مدد نہیں کی، بلکہ مسلم ممالک سے امداد آئی اس لیے حکومت ہند نے بھی اقوام متحدہ میں اس کی کھل کر حمایت نہیں کی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 19 May 2021, 11:11 AM