اتراکھنڈ اسمبلی انتخاب ملتوی کرنے سے متعلق داخل عرضی پر مرکز اور الیکشن کمیشن سے جواب طلب

عرضی گزار کی جانب سے کہا گیا کہ ہمارے ملک اور خاص طور پر ریاست اتراکھنڈ میں صحت کا بنیادی ڈھانچہ بہت کمزور ہے۔ ماہر ڈاکٹروں، ٹیکنیشنز اور دیگر طبی عملے کی شدید کمی ہے۔

اتراکھنڈ ہائی کورٹ، تصویر آئی اے این ایس
اتراکھنڈ ہائی کورٹ، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نینی تال: کورونا وائرس کی نئی شکل اومیکرون کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر اتراکھنڈ میں اسمبلی انتخابات کو ملتوی کرنے اور بڑی انتخابی ریلیوں پر پابندی کے لیے دائر عرضی پر سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے علاوہ مرکزی الیکشن کمیشن کو پیر کے روز تک جواب دینے کو کہا ہے۔

قائم مقام چیف جسٹس سنجے کمار مشرا اور جسٹس این ایس دھنک کی مشترکہ بنچ نے بدھ کو اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا۔ کورونا وبا کی وجہ سے ریاست میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے درخواست دائر کرنے والے سچیدانند ڈبرال کی جانب سے عدالت میں ایک درخواست دے کر کہا گیا کہ کورونا کی نئی شکل (اومیکرون) زیادہ خطرناک مانا جا رہا ہے۔


یہ کورونا وائرس کے پچھلے ورژن سے 318 گنا زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ یہ بات جنوبی افریقہ میں ہونے والی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔ عرضی گزار کی جانب سے کہا گیا کہ ہمارے ملک اور خاص طور پر ریاست اتراکھنڈ میں صحت کا بنیادی ڈھانچہ بہت کمزور ہے۔ ماہر ڈاکٹروں، ٹیکنیشنز اور دیگر طبی عملے کی شدید کمی ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق ہر 1000 آبادی کے لیے ایک ڈاکٹر دستیاب ہونا چاہیے لیکن بھارت میں 1456 کی آبادی کے لیے ایک ڈاکٹر دستیاب ہے جب کہ اتراکھنڈ میں یہ صورتحال کافی خوفناک ہے۔ یہاں تقریباً 7911 کی آبادی پرایک ڈاکٹر موجود ہے۔ درخواست گزار کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ریاست میں اسپتالوں اور صحت کی سہولیات کی شدید کمی ہے۔ ریاست میں صرف ایمس اور 12 ضلع اسپتال دستیاب ہیں۔


عرضی میں یہ بھی ذکرکیا گیا ہے کہ ریاست کے محکمہ صحت میں نہ صرف ڈاکٹروں کی کمی ہے بلکہ ہیلتھ افسران کی بھی کمی ہے۔ چھ ڈائریکٹرز کے مقابلے دو عہدے خالی ہیں۔ اسی طرح ایڈیشنل ڈائریکٹرز کی 13، میڈیکل آفیسر کی 1253، اسٹاف نرس کی 349، چیف فارماسسٹ کی 51، فارماسسٹ کی 96، ایکس رے ٹیکنیشن کی 96 اور این اے ایمز کی 547 آسامیاں خالی ہیں۔ ریاست میں سپر اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کے عہدے ہی موجود نہیں ہیں۔

عرضی میں مزید کہا گیا ہے کہ ریاست میں اسمبلی انتخابات قریب ہیں۔ انتخابات فروری اور مارچ میں ہونے والے ہیں۔ ایسے میں تمام سیاسی جماعتوں نے انتخابی مہم شروع کر دی ہے۔ ریاست میں بڑی سیاسی ریلیاں منعقد کی جا رہی ہیں۔ عام آدمی پارٹی، کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے زیر اہتمام ریلیوں میں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو رہے ہیں۔


ریلیوں میں نہ تو سماجی دوری کی پیروی کی جا رہی ہے اور نہ ہی ہجوم ماسک کا استعمال کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس کی مثالیں موجود ہیں۔ درخواست گزار کی جانب سے کورونا وبا کے پیش نظر اسمبلی انتخابات کو فی الحال ملتوی کرنے اور بھاری انتخابی ریلیوں پر روک لگانے، آن لائن اور ورچوئل ریلیوں کے انعقاد کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

درخواست گزار کی جانب سے اس پورے معاملے میں مرکزی الیکشن کمیشن کو فریق بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ریاستی حکومت سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ نئے سال میں بڑے اجتماعات پر پابندی لگانے کی ہدایات دیں۔ معاملے کی سماعت کے بعد بنچ نے مرکزی الیکشن کمیشن کو فریق بنانے کی ہدایت دی اور مرکز و ریاست کے علاوہ کمیشن سے پیر تک اس معاملے میں صورتحال واضح کرنے کو کہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔