یوپی میں مندروں اور مذہبی مقامات پر سیکورٹی کے سخت انتظامات

گزشتہ 3 اپریل کو آئی آئی ٹی بامبے کے گریجویٹ احمد مرتضیٰ عباسی نے گورکھپور کے گورکھناتھ مندر کے گیٹ پر پی اے سی کے دو جوانوں پر ہنسیا سے حملہ کر دیا تھا۔

ایودھیا میں سخت حفاظتی انتظامات/ تصویر یو این آئی
ایودھیا میں سخت حفاظتی انتظامات/ تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

اپریل ماہ کے آغاز میں گورکھناتھ مندر پر ہوئے حملے کے بعد اتر پردیش پولیس اور اس کی ایجنسیاں ریاست کے سبھی اہم مندروں کی سیکورٹی بڑھا رہی ہے۔ پولیس، مقامی افسران کے ساتھ بلرامپور میں تلسی رام شکتی پیٹھ، گورکھپور میں گورکھناتھ مندر، دیوی پاٹن، ایودھیا، مرزا پور، متھرا اور وارانسی کے مندروں میں سیکورٹی بڑھائی جا رہی ہے۔ ان سبھی مندروں میں ریڈ، یلو اور گرین زون کو ملا کر سیکورٹی کی تین سطحیں بنائی جائیں گی۔ ریڈ زون کو سیکیور زون کی شکل میں بھی جانا جاتا ہے جہاں ہائی-اینڈ سرویلانس اور سیکورٹی لگائی جائے گی۔ اس کے بعد یلو زون کو سیمی سیکیور زون اور گرین زون کو پبلک زون کی شکل میں جانا جاتا ہے۔

ایک سینئر پولیس افسر نے کہا کہ ایسا انتظام شری کرشن جنم بھومی اور آگرہ میں شاہی عیدگاہ میں بھی کیا گیا ہے۔ اہم مندروں اور تیرتھوں کی سیکورٹی کے لیے سی آر پی ایف کے ذریعہ متھرا اور ایودھیا کے مندروں کی سیکورٹی میں بھی تعاون کیا جا رہا ہے، جب کہ وارانسی مندر کے لیے گجرات میں اکشر دھام مندر جیسی سیکورٹی کا انتظام نافذ کرنے کے لیے تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (نظامِ قانون) پرشانت کمار نے کہا کہ خطرہ کے اندیشہ اور خفیہ رپورٹ کی بنیاد پر اہم مندروں اور مذہبی مقامات کی سیکورٹی کا آڈت کیا جا رہا ہے اور اسے بہتر بنایا جائے گا۔


غور طلب ہے کہ 3 اپریل کو آئی آئی ٹی بامبے کے گریجویٹ احمد مرتضیٰ عباسی نے گورکھپور کے گورکھناتھ مندر کے گیٹ پر پی اے سی کے دو جوانوں پر ہنسیا سے حملہ کیا تھا اور مذہبی نعرہ لگاتے ہوئے سنا گیا تھا۔ مرتضیٰ عباسی سے اس وقت پولیس کی پوچھ تاچھ جاری ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔