مغربی بنگال اسمبلی بنا اکھاڑا، شبھیندو ادھیکاری سمیت بی جے پی کے 5 اراکین اسمبلی معطل

ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی بیربھوم تشدد پر دونوں فریقین میں بحث شروع ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے بی جے پی رکن اسمبلی منوج تگّا اور ٹی ایم سی رکن اسمبلی اسِت مجومدار میں مار پیٹ ہو گئی۔

مغربی بنگال اسمبلی
مغربی بنگال اسمبلی
user

قومی آوازبیورو

مغربی بنگال اسمبلی پیر کے روز اس وقت اکھاڑا بن گیا جب ٹی ایم سی اور بی جے پی کے اراکین آپس میں نبرد آزما ہو گئے۔ دونوں پارٹیوں کے لیڈران کے درمیان خوب مار پیٹ ہوئی۔ اس واقعہ میں ٹی ایم سی رکن اسمبلی اسِت مجومدار زخمی ہو گئے۔ اس تعلق سے سخت قدم اٹھاتے ہوئے اسپیکر نے حزب مخالف لیڈر شبھیندو ادھیکاری سمیت بی جے پی کے پانچ اراکین اسمبلی کو معطل کر دیا ہے۔

بنگال اسمبلی میں آج بجٹ اجلاس کا آخری دن تھا۔ صبح سے ہی بی جے پی نے نظامِ قانون کے ایشو پر ٹی ایم سی حکومت کو گھیرتے ہوئے بیربھوم تشدد پر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے بیان کا مطالبہ کرتے ہوئے ہنگامہ شروع کر دیا۔ اسی تعلق سے دونوں فریقین میں کہا سنی شروع ہو گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے بی جے پی رکن اسمبلی منوج تگا اور ٹی ایم سی رکن اسمبلی است مجومدار کے درمیان مار پیٹ شروع ہو گئی۔ اس حملے میں است مجومدار زخمی ہو گئے، جنھیں اسپتال لے جایا گیا ہے۔


اس پورے واقعہ پر سخت کارروائی کرتے ہوئے اسپیکر نے پانچ اراکین اسمبلی کو آئندہ حکم تک معطل کر دیا ہے۔ جن لیڈروں کو معطل کیا گیا ہے، ان میں شبھیندو ادھیکاری، منوج تگا، نراہری مہتو، شنکر گھوش، دیپک برمن کا نام شامل ہے۔ اس کی مخالفت میں اپوزیشن لیڈر شبھیندو ادھیکاری کی قیادت میں بی جے پی اراکین اسمبلی نے نعرے بازی کرتے ہوئے اسمبلی سے واک آؤٹ کیا اور دعویٰ کیا کہ ایوان کے اندر ٹی ایم سی اراکین اسمبلی نے ان کی پارٹی کے کئی اراکین اسمبلی کے ساتھ مار پیٹ کی ہے۔

بی جے پی لیڈر شبھیندو ادھیکاری نے مار پیٹ کے واقعہ اور اسپیکر کے ذریعہ معطل کیے جانے سے متعلق کہا کہ اراکین اسمبلی ایوان کے اندر بھی محفوظ نہیں ہیں۔ ترنمول کے اراکین اسمبلی نے وہپ منوج تگا سمیت ہمارے کم از کم آٹھ سے دس اراکین اسمبلی کے ساتھ مار پیٹ کی، کیونکہ ہم نظامِ قانون کے ایشو پر وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کے بیان کا مطالبہ کر رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ٹی ایم سی، ان کے غنڈے اور پولیس کے خلاف ہمارا مارچ ہے۔ ہم اسپیکر کے پاس بھی جائیں گے۔ بنگال میں جو حالات ہیں اس کو لے کر مرکزی حکومت کو مداخلت کرنی چاہیے۔


دوسری طرف اس پورے معاملے میں ترنمول کانگریس لیڈر اور ریاستی حکومت کے وزیر فرہاد حکیم نے کہا کہ بی جے پی اسمبلی میں انارکی پھیلانے کے لیے ڈرامہ کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی کے حملے میں ایوان میں ہمارے کچھ اراکین اسمبلی زخمی ہو گئے ہیں۔ ہم بی جے پی کے اس عمل کی مذمت کرتے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔