ڈیڑھ سال بعد اسکولوں اور کالجوں میں لوٹی رونق، سنیما ہال بھی آج سے پوری طرح کھل جائیں گے

آج سے دہلی اور کئی ریاستوں میں پوری طرح اسکول کھل گئے ہیں لیکن اسکولوں کو ابھی آف لائن اور آن لائن دونوں طریقوں سے کلاس چلانی ہوں گی۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

دہلی کے اسکولوں میں رونق واپس لوٹ آئی ہے اور ڈیڑھ سال بعد تمام اسکولوں میں بچوں کے کھلکھلاتے چہرے نظر آ رہے ہیں ۔ملک میں کورونا کے تیزی سے کم ہو رہے معاملوں کو دیکھتے ہوئے کئی ریاستوں میں آ ج سےپوری طرح اسکول کھول دئے گئے ہیں جبکہ کئی ریاستوں میں پہلے سے ہی اسکول کھول دئے گئے تھے۔ دیوالی جیسے بڑے تہوار سے پہلے حکومت کا یہ بہت بڑا قدم ہے۔

دہلی میں آج سے سبھی اسکول اور کالج کھول دئے گئے ہیں۔ واضح رہے اسکول انتظامیہ کو یہ یقینی بنانا ہو گا کہ ایک بار میں طلباء کی پچاس فیصد سے زیادہ کلاس میں موجودگی نہ ہو ۔


دہلی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی ایم اے) نے یہ حکم جاری کیا ہے۔ اس حکم میں کہا گیا ہے کہ اسکولوں کو یہ یقینی بنانا ہو گا کہ کلاسیں ’ہائی برڈ‘ طریقے سے چلائی جائیں جس کا مطلب ہے کہ آف لائن کے ساتھ ساتھ آن لائن کلاسیں بھی جاری رہیں۔ واضح رہے اسکول کھلنے پر کسی بھی والدین پر یہ پابندی نہیں ہے کہ وہ اپنےبچے کو اسکول بھیجے، ساتھ میں اسکول انتظامیہ کو یہ یقینی بنانا ہو گا کہ تما م ٹیچرس نے کورونا کا ٹیکہ لگوا لیا ہو ۔ واضح رہے 98 فیصد تعلیمی اسٹاف نے کم از کم ایک ٹیکہ لگوا لیا ہے۔

واضح رہےاحکام میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسکول میں بچے کھانا اور کتابیں ایک دوسرے کے ساتھ شئیر نہ کریں اور تما م ٹیچرس کو ماسک لگانا لازمی ہو گا ۔ اس کے ساتھ دو شفٹوں میں چلنے والے اسکول میں دونوں شفٹوں کے دوران کم از کم ایک گھنٹے کا وقفہ رکھنا پڑے گا۔ واضح رہے کورونا کے حالات میں بہتری کی وجہ سے ستمبر میں نویں سے بارہویں تک کے طلباء کے لئے پہلے ہی اسکول کھول دئے گئے تھے۔


آج سے دہلی میں پوری صلاحیت کے ساتھ سنیما ہال اور ملٹی پلیکس بھی کھول دئے جائیں گے۔ اس سے قبل سنیما ہال میں صرف پچاس فیصد کی صلاحیت سے ہی کھولے گئے تھے۔ادھر شادی کی تقریب اور آخری رسومات میں شرکاء کی تعداد ابھی صرف سو تھی جس کو بڑھا کر دو سو کر دیا گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔