راجستھان میں پنجاب اینڈ سندھ بینک کی دو شاخوں میں کروڑوں روپے کا گھپلہ، برانچ منیجرسمیت 30 پر ایف آئی آر درج

سی بی آئی نے سری گنگا نگر، دہلی، نوئیڈا، سرسا، موگا، ہوشیارپور، بھاگلپوراورگاندھی نگر میں ایک ساتھ متعدد مقامات پر چھاپے مارے۔ ایجنسی نے قابل اعتراض دستاویزات اور تقریباً 11.97 لاکھ روپے نقد ضبط کئے۔

<div class="paragraphs"><p>سی بی آئی علامتی تصویر / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

راجستھان کے سری گنگا نگر میں پنجاب اینڈ سندھ بینک کی دو شاخوں میں بڑے فراڈ کا پردہ فاش ہوا ہے، جس نے تفتیشی ایجنسیوں کو بھی چونکا دیا ہے۔ سائبر فراڈ اور منی لانڈرنگ سے حاصل ہونے والی رقم کو سفید کرنے کے لیے بینک افسران کی ملی بھگت سے 1,621 کروڑ روپئے کا بڑا کھیل کیا گیا جس پر اب سی بی آئی نے شکنجہ کس دیا ہے۔ فراڈ کے اس سنسنی خیز معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے سی بی آئی نے دو سابق برانچ منیجروں سمیت 30 افراد اور کئی فرموں کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ ملزمین نے سائبر کرائم اور منی لانڈرنگ سے حاصل ناجائز رقم کو سفید کرنے کے لیے میول اکاؤنٹس کا جال بچھایا۔

خبروں کے مطابق سی بی آئی نے 21 جولائی 2025 کو ابتدائی کیس درج کرکے معاملے کی جانچ شروع کی تھی جس کے بعد 13 جنوری 2026 کو رسمی ایف آئی آر درج کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق فرضی کمپنیوں اور 17 میول اکاؤنٹس کے ذریعہ ہزاروں کروڑ روپے کا لین دین کیا گیا۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سی بی آئی کی ٹیم نے سری گنگا نگر، دہلی، نوئیڈا، سرسا، موگا، ہوشیار پور، بھاگلپور اور گاندھی نگر میں ایک ساتھ متعدد مقامات پر چھاپے مارے۔ اس دوران مرکزی جانچ ایجنسی نے قابل اعتراض دستاویزات، اہم سامان اور تقریباً 11.97 لاکھ روپے نقد ضبط کئے۔


ایف آئی آر کے مطابق اس سازش کے مرکزی ملزم پنجاب اینڈ سندھ بینک کے دو سابق برانچ منیجر وکاس وادھوا اور امن آنند ہیں۔ انہوں نے آدتیہ گپتا عرف وشال گپتا، پروین اروڑہ، پریم کمار سین اور عادل خان سمیت دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس بڑے فراڈ کو انجام دیا۔ ذرائع کے مطابق معاملہ درج ہونے کے فوراً بعد سی بی آئی نے اپنی کارروائی کا دائرہ بڑھایا اور ہنومان گڑھ روڈ واقع نکنج وہار میں ایل کے جی انفو سالیوشنز کے ڈائریکٹر اجے گرگ کے گھر پر بھی چھاپہ مارا۔ جانچ میں پتہ چلا کہ اس گینگ نے 17 جعلی فرموں اور کمپنیوں کے نام پر میول اکاؤنٹس کھولے تھے۔ اس کے لیے جعلی کے وائی سی دستاویزات، فرضی رینٹ ایگریمنٹ اور من گھڑنت دستاویزات بینک میں جمع کرائے گئے۔

مین برانچ میں19 جون سے 9 جولائی 2024 یعنی محض 20 دنوں کے اندر 4 کھاتے کھولے گئے جن میں تقریباً 537 کروڑ روپئے کا لین دین ہوا۔ وہیں گورنمنٹ گرلس اسکول برانچ میں اگست 2024 اور مارچ 2025 کے درمیان گورنمنٹ 13 کھاتے کھولے گئے جن سے تقریباً 1,084 کروڑ روپے کا لین دین ہوا۔ سی بی آئی نے ملزمین کے خلاف مجرمانہ سازش، دھوکہ دہی، جعلسازی، جعلی دستاویزات کے استعمال اور انسداد بدعنوانی ایکٹ کی دفعات کے تحت معاملے درج کرکے مزید تحقیقات تیز کر دی ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔