ساوتری بائی پھولے کے یومِ پیدائش پر راہل گاندھی اور ملکارجن کھڑگے کا خراجِ عقیدت

ساوتری بائی پھولے کے یومِ پیدائش پر راہل گاندھی اور ملکارجن کھڑگے نے سماجی انصاف، خواتین کی تعلیم اور محروم طبقات کے حقوق کے لیے ان کی جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش کیا

<div class="paragraphs"><p>تصویر بشکریہ ایکس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی اور کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے ساوتری بائی پھولے کے یوم پیدائش کے موقع پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ دونوں رہنماؤں نے سماجی انصاف، خواتین کی تعلیم اور محروم و استحصال زدہ طبقات کے حقوق کے لیے ساوتری بائی پھولے کی جدوجہد کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا نظریہ اور خدمات آج بھی ہندوستانی سماج کو برابری اور شعور کے راستے پر آگے بڑھنے کی رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔

راہل گاندھی نے کہا کہ ہندوستان کی پہلی خاتون معلمہ ساوتری بائی پھولے نے محروم اور استحصال زدہ طبقات کے حقوق کے لیے جو جدوجہد کی، وہ آج بھی سماجی انصاف کے راستے پر رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ راہل گاندھی کے مطابق تعلیم کے ذریعے سماج میں برابری اور شعور پیدا کرنے کی جو بنیاد ساوتری بائی پھولے نے رکھی، وہ جدید ہندوستان کی فکری تشکیل میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔


کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی ساوتری بائی پھولے کو ان کے یوم پیدائش پر یاد کرتے ہوئے انہیں کرانتِی جیوْتی، عظیم ماہرِ تعلیم اور ملک کی پہلی خاتون معلمہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ساوتری بائی پھولے نے دلت، محروم، مظلوم اور استحصال کا شکار طبقات کے حقوق کے لیے مضبوط عزم کے ساتھ جدوجہد کی۔ ملکارجن کھڑگے کے مطابق خواتین کی تعلیم اور عورتوں کے حقوق کو مضبوط بنانے میں ان کا کردار تاریخی اور ناقابلِ فراموش ہے، جس نے سماجی ڈھانچے میں دور رس تبدیلیاں پیدا کیں۔

کانگریس کے آفیشل ایکس ہینڈل پر بھی ساوتری بائی پھولے کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ پارٹی کی جانب سے کہا گیا کہ ساوتری بائی پھولے نے ذات پات اور صنفی تفریق کی رکاوٹوں کو چیلنج کیا، لڑکیوں کے لیے تعلیم کے دروازے کھولے اور جرات، ہمدردی اور انقلابی نظریات کے ذریعے سماجی اصلاح کی مضبوط بنیاد رکھی۔ پوسٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ان کی جدوجہد آج بھی ملک بھر میں سماجی اصلاح کی تحریکوں کو متاثر کر رہی ہے۔


ساوتری بائی پھولے کا شمار جدید ہندوستان کی اولین سماجی مصلحین میں ہوتا ہے۔ وہ 1831 میں پیدا ہوئیں اور کم عمری میں سماجی کارکن جوتی راؤ پھولے سے ان کی شادی ہوئی۔ اس دور میں جب خواتین کی تعلیم کو معیوب سمجھا جاتا تھا، ساوتری بائی پھولے نے شدید مخالفت، سماجی دباؤ اور ذاتی مشکلات کے باوجود تعلیم کے چراغ کو روشن رکھا۔ انہوں نے نہ صرف لڑکیوں کے لیے اسکول قائم کیے بلکہ خود بھی تدریس کے عمل میں عملی طور پر شامل رہیں۔

ساوتری بائی پھولے اور جوتی راؤ پھولے نے مل کر مہاراشٹر میں خواتین کے حقوق، تعلیم اور سماجی برابری کے لیے ایک منظم تحریک چلائی۔ ان کی کوششوں نے ذات پات پر مبنی امتیاز کو چیلنج کیا اور تعلیم کو سماجی تبدیلی کا موثر ذریعہ بنایا۔ آج ساوتری بائی پھولے کو ایک شاعرہ، سماجی مصلح اور تعلیم کی علمبردار کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی وراثت نہ صرف خواتین بلکہ پورے سماج کے لیے برابری، انصاف اور انسانی وقار کے پیغام کی علامت ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔